مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1232
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَلَّى رَكْعَتَيْنِ , فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ نَحْوَهُ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي هَذَا الْخَبَرَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : وَأَخْبَرَنِيهِ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ , وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ` انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھائی ، تو ذوالشمالین نے آپ سے عرض کیا ، آگے حدیث اسی طرح ہے ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطہ سے دی ہے ، وہ ( زہری ) کہتے ہیں : نیز مجھے اس کی خبر ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث اور عبیدالرحمن بن عبداللہ نے بھی دی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب السهو / حدیث: 1232
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´آدمی اگر دو رکعت پر ہی بھول کر سلام پھیر دے اور گفتگو کر لے تو کیا کرے؟`
ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھائی، تو ذوالشمالین نے آپ سے عرض کیا، آگے حدیث اسی طرح ہے۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطہ سے دی ہے، وہ (زہری) کہتے ہیں: نیز مجھے اس کی خبر ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث اور عبیدالرحمن بن عبداللہ نے بھی دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1232]
1232۔ اردو حاشیہ: مندرجہ بالا واقعہ حضرت ابوہریرہ ری اللہ عنہ سے مروی ہے جیسا کہ سابقہ احادیث سے صاف معلوم ہو رہا ہے۔ مگر اس روایت [1232] میں حضرت ابوبکر بن سلیمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا نام صراحتاً ذکر نہیں کیا بلکہ فرمایا: مجھے یہ واقعہ پہنچا ہے، واسطے کا ذکر نہیں کیا، جب کہ سابقہ حدیث میں انہوں نے واقعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا نام لے کر بیان کیا ہے۔ اس سے روایت کی اسنادی حیثیت میں فرق نہیں پڑتا کیونکہ ایک جگہ ذکر نہ کرنا دوسری جگہ ذکر کرنے کے مخالف نہیں۔ امام نسائی رحمہ اللہ کا اس روایت کو ذکر کرنے کا مقصد امام زہری پر روایت کے متصل و مرسل ہونے کے اختلاف کو بیان کرنا ہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1232 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔