سنن نسائي
صفة الوضوء— ابواب: وضو کا طریقہ
بَابُ : الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ باب: موزوں پر مسح کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قال : حَدَّثَنَا عِيسَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قال : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ ، فَلَمَّا رَجَعَ تَلَقَّيْتُهُ بِإِدَاوَةٍ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ " فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَغْسِلَ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَتْ بِهِ الْجُبَّةُ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا " .
´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے ، جب آپ لوٹے تو میں ایک لوٹے میں پانی لے کر آپ سے ملا ، اور میں نے ( اسے ) آپ پر ڈالا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر اپنا چہرہ دھویا ، پھر آپ اپنے دونوں بازو دھونے چلے تو جبہ تنگ پڑ گیا ، تو آپ نے انہیں جبے کے نیچے سے نکالا اور انہیں دھویا ، پھر اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا ، پھر ہمیں نماز پڑھائی ، ( ” پھر ہمیں نماز پڑھائی “ کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے ، جیسا کہ اوپر بیان ہوا ) ۔