مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1221
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ وَاسْمُهُ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَالْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَهَذَا حَدِيثُ الْقَاسِمِ , قَالَ : كُنْتُ آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي , فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَيَرُدُّ عَلَيَّ , فَأَتَيْتُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ , فَلَمَّا سَلَّمَ أَشَارَ إِلَى الْقَوْمِ , فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْنِي أَحْدَثَ فِي الصَّلَاةِ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا إِلَّا بِذِكْرِ اللَّهِ , وَمَا يَنْبَغِي لَكُمْ , وَأَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا ، اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو میں آپ کو سلام کرتا ، تو آپ مجھے جواب دیتے ، ( ایک بار ) میں آپ کے پاس آیا ، اور میں نے آپ کو سلام کیا ، آپ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا ، جب آپ نے سلام پھیرا ، تو لوگوں کی طرف اشارہ کیا ، اور فرمایا : ” اللہ نے نماز میں ایک نیا حکم دیا ہے کہ تم لوگ ( نماز میں ) سوائے ذکر الٰہی اور مناسب دعاؤں کے کوئی اور گفتگو نہ کرو ، اور اللہ کے لیے یکسو ہو کر کھڑے رہا کرو “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب السهو / حدیث: 1221
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري مدلس وعنعن. والحديث الآتي (1222) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1222 | سنن ابي داود: 924 | معجم صغير للطبراني: 252

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´نماز میں بات کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا، اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو میں آپ کو سلام کرتا، تو آپ مجھے جواب دیتے، (ایک بار) میں آپ کے پاس آیا، اور میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، جب آپ نے سلام پھیرا، تو لوگوں کی طرف اشارہ کیا، اور فرمایا: اللہ نے نماز میں ایک نیا حکم دیا ہے کہ تم لوگ (نماز میں) سوائے ذکر الٰہی اور مناسب دعاؤں کے کوئی اور گفتگو نہ کرو، اور اللہ کے لیے یکسو ہو کر کھڑے رہا کرو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1221]
1221۔ اردو حاشیہ: اس حدیث کو امام سفیان ثوری رحمہ اللہ سے ان کے دو شاگرد ابن ابی غنیۃ (یحییٰ بن عبدالملک) اور قاسم بن یزید بیان کرتے ہیں لیکن اس حدیث کے الفاظ قاسم بن یزید کے ہیں، ابن غنیۃ اس حدیث کو بالمعنیٰ روایت کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1221 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 924 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نماز میں سلام کا جواب دینا۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (پہلے) ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے اور کام کاج کی باتیں کر لیتے تھے، تو (ایک بار) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا تو مجھے پرانی اور نئی باتوں کی فکر دامن گیر ہو گئی ۱؎، جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے، نیا حکم نازل کرتا ہے، اب اس نے نیا حکم یہ دیا ہے کہ نماز میں باتیں نہ کرو، پھر آپ نے میرے سلام کا جواب دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 924]
924۔ اردو حاشیہ:
زبان سے سلام کا جواب دینا منسوخ ہو گیا تھا مگر اشارے سے جواب دینا جائز اور مسنون ہے۔ جیسے کہ مندرجہ زیل احادیث میں آ رہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 924 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔