سنن نسائي
كتاب السهو— کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
بَابُ : الْكَلاَمِ فِي الصَّلاَةِ باب: نماز میں بات کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ وَاسْمُهُ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَالْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَهَذَا حَدِيثُ الْقَاسِمِ , قَالَ : كُنْتُ آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي , فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَيَرُدُّ عَلَيَّ , فَأَتَيْتُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ , فَلَمَّا سَلَّمَ أَشَارَ إِلَى الْقَوْمِ , فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْنِي أَحْدَثَ فِي الصَّلَاةِ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا إِلَّا بِذِكْرِ اللَّهِ , وَمَا يَنْبَغِي لَكُمْ , وَأَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ " .
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا ، اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو میں آپ کو سلام کرتا ، تو آپ مجھے جواب دیتے ، ( ایک بار ) میں آپ کے پاس آیا ، اور میں نے آپ کو سلام کیا ، آپ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا ، جب آپ نے سلام پھیرا ، تو لوگوں کی طرف اشارہ کیا ، اور فرمایا : ” اللہ نے نماز میں ایک نیا حکم دیا ہے کہ تم لوگ ( نماز میں ) سوائے ذکر الٰہی اور مناسب دعاؤں کے کوئی اور گفتگو نہ کرو ، اور اللہ کے لیے یکسو ہو کر کھڑے رہا کرو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا، اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو میں آپ کو سلام کرتا، تو آپ مجھے جواب دیتے، (ایک بار) میں آپ کے پاس آیا، اور میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، جب آپ نے سلام پھیرا، تو لوگوں کی طرف اشارہ کیا، اور فرمایا: ” اللہ نے نماز میں ایک نیا حکم دیا ہے کہ تم لوگ (نماز میں) سوائے ذکر الٰہی اور مناسب دعاؤں کے کوئی اور گفتگو نہ کرو، اور اللہ کے لیے یکسو ہو کر کھڑے رہا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1221]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (پہلے) ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے اور کام کاج کی باتیں کر لیتے تھے، تو (ایک بار) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا تو مجھے پرانی اور نئی باتوں کی فکر دامن گیر ہو گئی ۱؎، جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے، نیا حکم نازل کرتا ہے، اب اس نے نیا حکم یہ دیا ہے کہ نماز میں باتیں نہ کرو“، پھر آپ نے میرے سلام کا جواب دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 924]
زبان سے سلام کا جواب دینا منسوخ ہو گیا تھا مگر اشارے سے جواب دینا جائز اور مسنون ہے۔ جیسے کہ مندرجہ زیل احادیث میں آ رہا ہے۔