حدیث نمبر: 1207
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو الْعَلَاءِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : " اسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا وَالْبَابُ عَلَى الْقِبْلَةِ , فَمَشَى عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ يَسَارِهِ فَفَتَحَ الْبَابَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے دروازہ کھلوانا چاہا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز پڑھ رہے تھے ، دروازہ قبلہ کی طرف پڑ رہا تھا ، آپ اپنے دائیں جانب یا بائیں جانب ( چند قدم ) چلے ، اور آپ نے دروازہ کھولا ، پھر آپ اپنی جگہ پر واپس لوٹ آئے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب السهو / حدیث: 1207
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (922) ترمذي (601) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الصلاة 169 (922)، سنن الترمذی/الصلاة 304 (الجمعة 68) (601)، (تحفة الأشراف: 16417) ، مسند احمد 6/31، 183، 234) (حسن)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´قبلہ کے آگے چند قدم چلنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے دروازہ کھلوانا چاہا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ قبلہ کی طرف پڑ رہا تھا، آپ اپنے دائیں جانب یا بائیں جانب (چند قدم) چلے، اور آپ نے دروازہ کھولا، پھر آپ اپنی جگہ پر واپس لوٹ آئے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1207]
1207۔ اردو حاشیہ: ➊ نفل نماز میں کچھ رعایت ہوتی ہے۔ ویسے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ قبلے سے تبدیل نہیں ہوا۔ چند قدم اٹھانے کی اجازت ہے۔ فرض نماز میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا پیچھے آنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آگے چلنا اس کی دلیل ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ رخصت ضرورت کے وقت ہی ہے۔ بلاوجہ چلنا نماز ضائع کر دے گا۔
➋ محقق کتاب نے اس روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے اور انہی کی رائے اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (سنن أبي داود (مفصل) للألباني: 4/77، حدیث: 855، والموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد: 42/320، 321)
➌ جب گھر میں اور کوئی نہ ہو اور دروازہ قبلے کی جانب ہو تو نماز پڑھنے والا دروازہ کھول سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1207 سے ماخوذ ہے۔