حدیث نمبر: 1202
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَا يَلْوِي عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دائیں بائیں متوجہ ہوتے تھے ۱؎ لیکن آپ اپنی گردن اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں موڑتے تھے ۔

وضاحت:
۱؎: اسے نفل نماز پر محمول کرنا اولیٰ ہے، جیسا کہ سنن ترمذی میں انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس کی صراحت ہے، اور فرض میں بوقت اشد ضرورت ایسا کیا جا سکتا ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب السهو / حدیث: 1202
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الصلاة 296 (الجمعة 60) (587)، (تحفة الأشراف: 6014) ، مسند احمد 1/275، 304 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 587

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´نماز میں دائیں بائیں متوجہ ہونے کی رخصت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دائیں بائیں متوجہ ہوتے تھے ۱؎ لیکن آپ اپنی گردن اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں موڑتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1202]
1202۔ اردو حاشیہ: یہاں کنکھیوں سے دیکھنا مراد ہے جس سے چہرہ قبلہ رخ سے نہیں ہٹتا۔ اگر منہ موڑ کر دیکھنا مراد ہو تو یہ پہلے دور کی بات ہو گی، اب اس کی اجازت نہیں کیونکہ «الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خَاشِعُونَ» [المؤمنون: 2: 23] کے خلاف ہے۔ منہ موڑٗنے سے گردن مڑے گی جو کہ جائز نہیں۔ ضرورت کے تحت کنکھیوں سے دیکھنا فرض نماز میں بھی ہو سکتا ہے اور نفل میں بھی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1202 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 587 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں (گردن موڑے بغیر) ترچھی نظر سے دائیں اور بائیں دیکھتے تھے اور اپنی گردن اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں پھیرتے تھے۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 587]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ مخالفت آگے آ رہی ہے، اور مخالفت یہ ہے کہ وکیع نے اپنی سند میں ’’عن بعض أصحاب عكرمة‘‘ کہا ہے، یعنی سند میں دو راوی ساقط ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 587 سے ماخوذ ہے۔