حدیث نمبر: 12
أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْفِطْرَةُ قَصُّ الْأَظْفَارِ وَأَخْذُ الشَّارِبِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ناخن تراشنا ، مونچھ کے بال لینا ، اور زیر ناف کے بال مونڈنا فطری ( پیدائشی ) سنتیں ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / ذكر الفطرة / حدیث: 12
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/اللباس 63 (5888)، 64 (5890)، (تحفة الأشراف: 7654)، مسند احمد 2/118 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5888 | صحيح البخاري: 5890

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´زیر ناف کے بال مونڈنا۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناخن تراشنا، مونچھ کے بال لینا، اور زیر ناف کے بال مونڈنا فطری (پیدائشی) سنتیں ہیں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 12]
12۔ اردو حاشیہ: ➊ زیر ناف کے بال صاف کرنا اس لیے فطرت میں شامل ہے کہ جماع کے وقت بڑے بال نجاست سے آلودہ ہو سکتے ہیں۔ صفائی مشکل ہو گی خصوصاً جب پانی نہ ہو یا کم ہو۔ لہٰذا انہیں مونڈنا ضروری ہے تاکہ نجاست اور بدبو سے بچا جا سکے۔
➋ حدیث میں حلق کا لفظ آیا ہے، مگر اس بات پر اتفاق ہے کہ کسی بھی طریقے سے ان بالوں کو صاف کیا جا سکتا ہے۔ مونڈ کریا دوائی لگا کر یا اکھیڑ کریا کاٹ کر مگر طبی نقطۂ نظر سے مونڈنا ہی مفید ہے۔ اس سے قوت مردمی بڑھتی یا قائم رہتی ہے، نیز اس حکم میں مرد و عورت برابر ہیں۔
➌ شرم گاہ میں صرف اگلی شرم گاہ شامل ہے جبکہ بعض علماء کے نزدیک اس میں، اگلی پچھلی دونوں شرم گاہیں شامل ہیں۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 12 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5888 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5888. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: مونچھیں کتروانا پیدائشی سنت ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5888]
حدیث حاشیہ: کیونکہ مونچھ بڑھانے سے آدمی بد صورت اور مہیب ہو جاتا ہے جیسے ریچھ کی شکل اور کھانا کھاتے وقت تمام مونچھ کے بال کھانے میں مل جاتے ہیں اور یہ ایک طرح کی غلاظت ہے مگر آج کل فیشن پرستوں نے اسی ریچھ کے فیشن کو اپنا کر اپنا حیلہ درندوں سے ملا دیا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5888 سے ماخوذ ہے۔