حدیث نمبر: 1195
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ , فَلَا يَرْفَعْ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ أَنْ يُلْتَمَعَ بَصَرُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو تو وہ اپنی نظروں کو آسمان کی طرف نہ اٹھائے ، ایسا نہ ہو کہ اس کی نظر اچک لی جائے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب السهو / حدیث: 1195
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15634) ، مسند احمد 3/441 و 5/295 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´نماز میں آسمان کی طرف نظر اٹھانے سے ممانعت کا بیان۔`
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: " جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو تو وہ اپنی نظروں کو آسمان کی طرف نہ اٹھائے، ایسا نہ ہو کہ اس کی نظر اچک لی جائے۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1195]
1195۔ اردو حاشیہ: ضروری نہیں کہ دنیا ہی میں اس فعل پر نظر اچک لی جائے بلکہ آخرت میں بھی یہ سزا مل سکتی ہے بلکہ زیادہ قرین قیاس یہی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1195 سے ماخوذ ہے۔