سنن نسائي
كتاب التطبيق— کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل
بَابُ : التَّخْفِيفِ فِي التَّشَهُّدِ الأَوَّلِ باب: پہلے قعدہ کو ہلکا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1177
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ أَيُّوبَ الطَّالَقَانِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ " قُلْتُ : حَتَّى يَقُومَ : قَالَ ذَلِكَ يُرِيدُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت میں ایسا بیٹھتے جیسے گرم پتھر پر بیٹھے ہوں ، راوی نے کہا : میں نے کہا : اٹھنے تک ؟ تو انہوں نے ( استاد نے ) کہا : ہاں ! یہی مراد ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´پہلے قعدہ کو ہلکا کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت میں ایسا بیٹھتے جیسے گرم پتھر پر بیٹھے ہوں، راوی نے کہا: میں نے کہا: اٹھنے تک؟ تو انہوں نے (استاد نے) کہا: ہاں! یہی مراد ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1177]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت میں ایسا بیٹھتے جیسے گرم پتھر پر بیٹھے ہوں، راوی نے کہا: میں نے کہا: اٹھنے تک؟ تو انہوں نے (استاد نے) کہا: ہاں! یہی مراد ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1177]
1177۔ اردو حاشیہ: یہ روایت ضعیف ہے، تاہم ابن ابی شیبہ میں تمیم بن سلمہ کی صحیح سند سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا پہلے تشہد میں بیٹھنا ایسے ہوتا تھا کہ گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہوں۔ دیکھیے: [التلخیص الجبیر: 263/1] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دو رکعتوں کے بعد صرف تشہد پڑھنا کافی ہے، تاہم اس کے بعد درود شریف بھی پڑھ لیا جائے تو بہتر ہے، یعنی پہلے تشہد میں بھی درود شریف کا پڑھنا مستحب ہے، جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [صفة صلاة النبي صلی اللہ علیه وسلم للألباني، ص: 45]
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1177 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 366 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´پہلی دونوں رکعتوں میں قعدہ (تشہد کے لیے بیٹھنے) کی مقدار کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی دونوں رکعتوں میں بیٹھتے تو ایسا لگتا گویا آپ گرم پتھر پر بیٹھے ہیں ۱؎، شعبہ (راوی) کہتے ہیں: پھر سعد نے اپنے دونوں ہونٹوں کو کسی چیز کے ساتھ حرکت دی ۲؎ تو میں نے کہا: یہاں تک کہ آپ کھڑے ہو جاتے؟ تو انہوں نے کہا: یہاں تک کہ آپ کھڑے ہو جاتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 366]
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی دونوں رکعتوں میں بیٹھتے تو ایسا لگتا گویا آپ گرم پتھر پر بیٹھے ہیں ۱؎، شعبہ (راوی) کہتے ہیں: پھر سعد نے اپنے دونوں ہونٹوں کو کسی چیز کے ساتھ حرکت دی ۲؎ تو میں نے کہا: یہاں تک کہ آپ کھڑے ہو جاتے؟ تو انہوں نے کہا: یہاں تک کہ آپ کھڑے ہو جاتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 366]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی بہت جلد اٹھ جاتے۔
2؎:
یعنی چپکے سے کوئی بات کہی جسے میں سن نہیں سکا۔
3؎:
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ اثر تو سنداً ضعیف ہے، مگر ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مروی اثر جو اسی معنی میں ہے صحیح ہے، اور اسی پر امت کا تعامل ہے۔
نوٹ:
(ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے)
1؎:
یعنی بہت جلد اٹھ جاتے۔
2؎:
یعنی چپکے سے کوئی بات کہی جسے میں سن نہیں سکا۔
3؎:
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ اثر تو سنداً ضعیف ہے، مگر ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مروی اثر جو اسی معنی میں ہے صحیح ہے، اور اسی پر امت کا تعامل ہے۔
نوٹ:
(ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 366 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 995 کی شرح از حافظ ابوعبد اللہ صارم ✍️
´درمیانی تشہد کو مختصر رکھنا`
«. . . حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ . . .»
”. . . عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دو رکعتوں میں یعنی پہلے تشہد میں اس طرح ہوتے تھے گویا کہ گرم پتھر پر (بیٹھے) ہیں . . .“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /باب فِي تَخْفِيفِ الْقُعُودِ: 995]
«. . . حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ . . .»
”. . . عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دو رکعتوں میں یعنی پہلے تشہد میں اس طرح ہوتے تھے گویا کہ گرم پتھر پر (بیٹھے) ہیں . . .“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /باب فِي تَخْفِيفِ الْقُعُودِ: 995]
تخریج الحدیث:
[مسند احمد: 386/1، سنن ابي داود 995، سنن النسائي: 1177، سنن الترمذي: 366]
تبصرہ:
اس کی سند ’’ مرسل“ ہونے کی وجہ سے ’’ ضعیف“ ہے، کیونکہ: ابوعبیدہ کا اپنے والد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: راجح بات یہی ہے کہ ابوعبیدہ کا اپنے والدِ گرامی سے سماع ثابت نہیں۔ [تقريب التهذيب: 8231]
◈نیز فرماتے ہیں: ”جمہور اہل علم کے نزدیک انہوں نے اپنے والد گرامی سے سماع نہیں کیا۔“ [موافقة الخبر الخبر: 364/1]
لہذا امام حاکم رحمہ اللہ [1/ 296] کا اس روایت کو ’’ امام بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح“ قرار دینا صحیح نہیں۔
◈ اس روایت کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت منقطع ہے، کیونکہ ابوعبیدہ نے اپنے والدِ گرامی سے سماع نہیں کیا۔“ [اتلخيص الحبير: 263/1، ح: 406]
دوسری بات یہ ہے کہ اس سے پہلے تشہد میں دورد پڑھنے کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ پہلا تشہد، دوسرے سے چھوٹا تھا۔ یعنی پہلا تشہد درود سمیت بھی دوسرے کے مقابلے میں چھوٹا ہو سکتا ہے۔
◈ علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250-1173ھ) لکھتے ہیں: ’’ اس حدیث میں صرف پہلے تشہد کو چھوٹا کرنے کی مشروعیت ہے اور وہ تو اسے دوسرے تشہد کے مقابلے میں چھوٹا کرنے سے حاصل ہو جاتی ہے۔“ [نيل الاوطار: 2/ 333]
[مسند احمد: 386/1، سنن ابي داود 995، سنن النسائي: 1177، سنن الترمذي: 366]
تبصرہ:
اس کی سند ’’ مرسل“ ہونے کی وجہ سے ’’ ضعیف“ ہے، کیونکہ: ابوعبیدہ کا اپنے والد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: راجح بات یہی ہے کہ ابوعبیدہ کا اپنے والدِ گرامی سے سماع ثابت نہیں۔ [تقريب التهذيب: 8231]
◈نیز فرماتے ہیں: ”جمہور اہل علم کے نزدیک انہوں نے اپنے والد گرامی سے سماع نہیں کیا۔“ [موافقة الخبر الخبر: 364/1]
لہذا امام حاکم رحمہ اللہ [1/ 296] کا اس روایت کو ’’ امام بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح“ قرار دینا صحیح نہیں۔
◈ اس روایت کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت منقطع ہے، کیونکہ ابوعبیدہ نے اپنے والدِ گرامی سے سماع نہیں کیا۔“ [اتلخيص الحبير: 263/1، ح: 406]
دوسری بات یہ ہے کہ اس سے پہلے تشہد میں دورد پڑھنے کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ پہلا تشہد، دوسرے سے چھوٹا تھا۔ یعنی پہلا تشہد درود سمیت بھی دوسرے کے مقابلے میں چھوٹا ہو سکتا ہے۔
◈ علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250-1173ھ) لکھتے ہیں: ’’ اس حدیث میں صرف پہلے تشہد کو چھوٹا کرنے کی مشروعیت ہے اور وہ تو اسے دوسرے تشہد کے مقابلے میں چھوٹا کرنے سے حاصل ہو جاتی ہے۔“ [نيل الاوطار: 2/ 333]
درج بالا اقتباس ماہنامہ السنہ جہلم، شمارہ 61-66، حدیث/صفحہ نمبر: 57 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 995 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´درمیانی تشہد کو مختصر رکھنا۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دو رکعتوں میں یعنی پہلے تشہد میں اس طرح ہوتے تھے گویا کہ گرم پتھر پر (بیٹھے) ہیں۔ شعبہ کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا: کھڑے ہونے تک؟ تو سعد بن ابراہیم نے کہا: کھڑے ہونے تک ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 995]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دو رکعتوں میں یعنی پہلے تشہد میں اس طرح ہوتے تھے گویا کہ گرم پتھر پر (بیٹھے) ہیں۔ شعبہ کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا: کھڑے ہونے تک؟ تو سعد بن ابراہیم نے کہا: کھڑے ہونے تک ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 995]
995۔ اردو حاشیہ:
ابن ابی شیبہ نے تمیم بن سلمہ کی صحیح سند سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیٹھنا ایسے ہوتا تھا کہ گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہوں۔ دیکھئے: [التلخيص الجبير 263/1]
اس میں اشارہ ہے کہ دو رکعتوں کے بعد صرف تشہد پڑھنا کافی ہے، تاہم اس کے بعد درود شریف بھی پڑھ لیا جائے تو بہتر ہے۔ یعنی پہلے تشہد میں بھی درود شریف کا پڑھنا مستحب ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے . [صفة الصلاة النبى صلى الله عليه وسلم للباني ص 45]
ابن ابی شیبہ نے تمیم بن سلمہ کی صحیح سند سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیٹھنا ایسے ہوتا تھا کہ گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہوں۔ دیکھئے: [التلخيص الجبير 263/1]
اس میں اشارہ ہے کہ دو رکعتوں کے بعد صرف تشہد پڑھنا کافی ہے، تاہم اس کے بعد درود شریف بھی پڑھ لیا جائے تو بہتر ہے۔ یعنی پہلے تشہد میں بھی درود شریف کا پڑھنا مستحب ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے . [صفة الصلاة النبى صلى الله عليه وسلم للباني ص 45]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 995 سے ماخوذ ہے۔