سنن نسائي
كتاب التطبيق— کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل
بَابُ : أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ باب: اللہ تعالیٰ سے بندہ سجدہ میں سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 1138
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ سُمَيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے ، لہٰذا ( سجدے میں ) تم لوگ بکثرت دعا کیا کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب التطبيق / حدیث: 1138
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 482 | سنن ابي داود: 875
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´اللہ تعالیٰ سے بندہ سجدہ میں سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے، لہٰذا (سجدے میں) تم لوگ بکثرت دعا کیا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1138]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے، لہٰذا (سجدے میں) تم لوگ بکثرت دعا کیا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1138]
1138۔ اردو حاشیہ: ➊ نماز کا اصل مقصد سجدہ ہے، باقی تمہید اور خاتمہ ہے، لہٰذا سجدے میں مکمل سکون و اطمینان ہونا چاہیے۔
➋ بعض حضرات دعا کے لیے نماز سے الگ صرف سجدے کو بھی مناسب خیال کرتے ہیں لیکن اس کا سنت سے ثبوت نہیں ملتا۔ ہاں سجدۂ شکر مسنون ہے۔
➌ یہاں قرب سے جسمانی یا مکانی قرب مراد نہیں بلکہ رتبے اور عزت و شرف والا قرب مراد ہے کیونکہ شیطان سجدے سے انکار کر کے ذلیل و رسوا ہوا اور انسان شیطان کی مخالفت، یعنی سجدہ کر کے عزت و رتبہ حاصل کر سکتا ہے۔
➋ بعض حضرات دعا کے لیے نماز سے الگ صرف سجدے کو بھی مناسب خیال کرتے ہیں لیکن اس کا سنت سے ثبوت نہیں ملتا۔ ہاں سجدۂ شکر مسنون ہے۔
➌ یہاں قرب سے جسمانی یا مکانی قرب مراد نہیں بلکہ رتبے اور عزت و شرف والا قرب مراد ہے کیونکہ شیطان سجدے سے انکار کر کے ذلیل و رسوا ہوا اور انسان شیطان کی مخالفت، یعنی سجدہ کر کے عزت و رتبہ حاصل کر سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1138 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 482 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کہ بندہ سجدہ کی حالت میں اپنے رب کی رحمت کے بہت قریب ہوتا ہے لہٰذا اس میں خوب دعا کرو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1083]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: سجدہ انتہائی فروتنی اور عاجزی کی دلیل ہے جس کے ذریعہ بندہ اللہ کے حضور اپنے فقرواحتیاج اور مسکنت کا اظہار کرتا ہے اس لیے اس حالت میں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور رحمت کا محل بنتا ہے، اور اسے اللہ تعالیٰ کا انتہائی قرب حاصل ہوتا ہے اس لیے یہ دعا کا بہترین محل ہے اور اس قرب کی بنا پر بعض علماء نے قیام کی طوالت پر سجدوں کی کثرت کو ترجیح دی ہے، اس کے بارے میں علماء کے تین قول ہیں۔
1۔
زیادہ سجدے اور رکوع کرنا یعنی زیادہ نفل پڑھنا طویل قیام سے افضل ہے اور اس میں سجدہ لمبا کیا جائےگا۔
2۔
اما ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک طویل قیام کرنا افضل ہے۔
3۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسئلہ میں توقف کیا ہے، اور بعض نے کہا ہے، دونوں برابر ہیں، اورامام اسحاق کے نزدیک دن کو رکوع وسجود کی کثرت افضل ہے اور رات کو طویل قیام افضل ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ رات کو گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔
1۔
زیادہ سجدے اور رکوع کرنا یعنی زیادہ نفل پڑھنا طویل قیام سے افضل ہے اور اس میں سجدہ لمبا کیا جائےگا۔
2۔
اما ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک طویل قیام کرنا افضل ہے۔
3۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسئلہ میں توقف کیا ہے، اور بعض نے کہا ہے، دونوں برابر ہیں، اورامام اسحاق کے نزدیک دن کو رکوع وسجود کی کثرت افضل ہے اور رات کو طویل قیام افضل ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ رات کو گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 482 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 482 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
سجدے کی دعائیں اور چند احکامات
سجدے میں بندہ اپنے رب کے انتہائی قریب ہوتا ہے لہٰذا سجدے میں خوب دعا کرنی چاہئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أقرب ما يكون العبد من ر به وهو ساجد فأكثروا الدعاء .» [صحيح مسلم: 482]
’’بندہ اپنے رب کے قریب ترین ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہو پس دعا زیادہ سے زیادہ کیا کرو۔“
سجدے میں درج ذیل دعائیں پڑھنا ثابت ہے۔
«سُبْحَانَ رَبِّيَ الاَعْليٰ .» [صحيح مسلم: 772]
’’میرا بلند پروردگار (ہر عیب سے) پاک ہے۔“
«سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِي .» [صحيح بخاري: 794، 817، صحيح مسلم: 484]
’’اے ہمارے پروردگار! تو (ہر عیب سے) پاک ہے ہم تیری تعریف اور پاکی بیان کرتے ہیں۔ اے اللہ! مجھے بخش دے۔“
«سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لَا اِلَهَ إلَّا أَنْتَ .» [صحيح مسلم: 487]
’’اے اللہ! تو (ہر عیب سے) پاک ہم تیری تعریف اور پاکی بیان کرتے ہیں تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔“
«سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوْحِ .» [صحيح مسلم: 487]
’’ (الٰہی تو) نہایت پاک اور قدوس ہے، فرشتوں اور روح الامین (جبریل) کا پروردگار ہے۔“
«اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ ذَنْبِيْ كُلَّهٗ، دِقَّهٗ وَجِلَّهٗ، وَأَوَّلَهٗ وَآخِرَهٗ، وَعَلَانِيَتَهٗ وَسِرَّهٗ .» [صحيح مسلم: 483]
’’اے اللہ میرے تمام گناہوں کو بخش دے خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں، ماضی کے ہوں اور آئندہ کے ہوں، علانیہ اور خفیہ ہوں۔“
«اَللّٰهُمّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ اٰمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ خَلَقَهٗ وَصَوَّرَهٗ، وَشَقَّ سَمْعَهٗ وَبَصَرَهٗ، تَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ .» [صحيح مسلم: 771]
’’اے اللہ! میں نے تیرے لئے سجدہ کیا میں تجھ پر ایمان لایا، تیرا فرمانبردار ہوا، میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اسے تخلیق کیا، اسے اچھی صورت دی، اس کے کان اور آنکھ کو کھولا بہترین تخلیق کرنے والا اللہ، بڑا ہی بابرکت ہے۔“
یہ دعا بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے: «اَللّٰهُمّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وِبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عَقُوْبَتِكَ وَأَعُوْذُبِكَ مِنْكَ لاَ أُحْصِيْ ثَنَائً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلـٰي نَفْسِكَ .» [صحيح مسلم: 486]
’’الٰہی میں غصے سے تیری رضا کی پناہ مانگتا ہوں اور تیری بخشش کی تیرے عذاب سے اور تجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ مجھ میں طاقت نہیں کہ تعریف کر سکوں تو ایسا ہی ہے جیسی تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔“
جو دعا باسند صحیح ثابت ہو جائے سجدے میں اس کا پڑھنا افضل ہے، رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنا منع ہے۔
* آپ سجدے کی حالت میں اپنے دونوں پاؤں کی ایڑھیاں ملا دیتے تھے اور ان کی انگلیوں کا رخ قبلے کی طرف ہوتا تھا۔
دلیل: «قالت عائشة زوج النبى فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان معي على فراش فوجدته ساجداً راصا عقبيه مستقبلا باطراف أصابعه القبلة“ …» [معاني الآثار: 1/234، بيهقي: 2/116]
’’ آپ کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے ایک دن آپ کو گم پایا جب کہ آپ میرے بستر پر تھے، پس میں نے آپ کو اس حالت میں پایا کہ آپ سجدہ میں دونوں ایڑیوں کو اوپر اٹھائے ہوئے اور انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف کیے ہوئے تھے۔“
* سجدے میں آپ اپنے دونوں قدم کھڑے رکھتے تھے۔
دلیل: «عن عائشة قالت فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة من الفراش فالتمسته فوقعت يدي على بطن قدمه، وهو فى المسجد وهما منصو بتان .» [صحيح مسلم: 486]
’’ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہتی ہیں میں نے ایک رات آپ کو بستر سے غائب پایا، تو ٹٹولنے پر میرا ہاتھ آپ کے دونوں قدموں کے تلووں کو لگا، آپ اس وقت سجدہ میں تھے اور آپ کے دونوں پاؤں کھڑے ہوئے تھے۔“
* آپ تکبیر (اللہ اکبر) کہہ کر سجدے سے اٹھتے۔
دلیل: «ثم يكبر حين يرفع رأسه» [صحيح بخاري: 789، صحيح مسلم: 392]
* آپ اللہ اکبر کہہ کر سجدے سے سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھ جاتے۔
دلیل: «ثم يسجد ثم يقول الله أكبر ويرفع رأسه ويثني رجله اليسري فيقعد عليها .» [ابوداود: 730]
* عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ «إنماسنة الصلاة أن تنصب رجلك اليمني وتثني اليسري» [صحيح بخاري: 827]
’’نماز میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت یہ ہے کہ دایاں پاؤں کھڑا کر کے بایاں پاؤں بچھا دے۔“
* آپ سجدے سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
دلیل: «افتتح التكبير فى الصلاة فرفع يديه… وإذا كبر للركو ع فعل مثله وإذا قال سمع الله لمن حمده ولا يفعل ذلك حين يسجد ولا حين يرفع رأسه من السجود .» [صحيح بخاري: 738]
’’ نماز کے شروع میں تکبیر کہتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے … اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے تو ایسا ہی کرتے اور جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تو اسی طرح کرتے اور سجدے اور سجدے سے سر اٹھاتے ہوئے ایسا نہ کرتے۔“
سجدے میں بندہ اپنے رب کے انتہائی قریب ہوتا ہے لہٰذا سجدے میں خوب دعا کرنی چاہئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أقرب ما يكون العبد من ر به وهو ساجد فأكثروا الدعاء .» [صحيح مسلم: 482]
’’بندہ اپنے رب کے قریب ترین ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہو پس دعا زیادہ سے زیادہ کیا کرو۔“
سجدے میں درج ذیل دعائیں پڑھنا ثابت ہے۔
«سُبْحَانَ رَبِّيَ الاَعْليٰ .» [صحيح مسلم: 772]
’’میرا بلند پروردگار (ہر عیب سے) پاک ہے۔“
«سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِي .» [صحيح بخاري: 794، 817، صحيح مسلم: 484]
’’اے ہمارے پروردگار! تو (ہر عیب سے) پاک ہے ہم تیری تعریف اور پاکی بیان کرتے ہیں۔ اے اللہ! مجھے بخش دے۔“
«سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لَا اِلَهَ إلَّا أَنْتَ .» [صحيح مسلم: 487]
’’اے اللہ! تو (ہر عیب سے) پاک ہم تیری تعریف اور پاکی بیان کرتے ہیں تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔“
«سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوْحِ .» [صحيح مسلم: 487]
’’ (الٰہی تو) نہایت پاک اور قدوس ہے، فرشتوں اور روح الامین (جبریل) کا پروردگار ہے۔“
«اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ ذَنْبِيْ كُلَّهٗ، دِقَّهٗ وَجِلَّهٗ، وَأَوَّلَهٗ وَآخِرَهٗ، وَعَلَانِيَتَهٗ وَسِرَّهٗ .» [صحيح مسلم: 483]
’’اے اللہ میرے تمام گناہوں کو بخش دے خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں، ماضی کے ہوں اور آئندہ کے ہوں، علانیہ اور خفیہ ہوں۔“
«اَللّٰهُمّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ اٰمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ خَلَقَهٗ وَصَوَّرَهٗ، وَشَقَّ سَمْعَهٗ وَبَصَرَهٗ، تَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ .» [صحيح مسلم: 771]
’’اے اللہ! میں نے تیرے لئے سجدہ کیا میں تجھ پر ایمان لایا، تیرا فرمانبردار ہوا، میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اسے تخلیق کیا، اسے اچھی صورت دی، اس کے کان اور آنکھ کو کھولا بہترین تخلیق کرنے والا اللہ، بڑا ہی بابرکت ہے۔“
یہ دعا بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے: «اَللّٰهُمّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وِبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عَقُوْبَتِكَ وَأَعُوْذُبِكَ مِنْكَ لاَ أُحْصِيْ ثَنَائً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلـٰي نَفْسِكَ .» [صحيح مسلم: 486]
’’الٰہی میں غصے سے تیری رضا کی پناہ مانگتا ہوں اور تیری بخشش کی تیرے عذاب سے اور تجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ مجھ میں طاقت نہیں کہ تعریف کر سکوں تو ایسا ہی ہے جیسی تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔“
جو دعا باسند صحیح ثابت ہو جائے سجدے میں اس کا پڑھنا افضل ہے، رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنا منع ہے۔
* آپ سجدے کی حالت میں اپنے دونوں پاؤں کی ایڑھیاں ملا دیتے تھے اور ان کی انگلیوں کا رخ قبلے کی طرف ہوتا تھا۔
دلیل: «قالت عائشة زوج النبى فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان معي على فراش فوجدته ساجداً راصا عقبيه مستقبلا باطراف أصابعه القبلة“ …» [معاني الآثار: 1/234، بيهقي: 2/116]
’’ آپ کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے ایک دن آپ کو گم پایا جب کہ آپ میرے بستر پر تھے، پس میں نے آپ کو اس حالت میں پایا کہ آپ سجدہ میں دونوں ایڑیوں کو اوپر اٹھائے ہوئے اور انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف کیے ہوئے تھے۔“
* سجدے میں آپ اپنے دونوں قدم کھڑے رکھتے تھے۔
دلیل: «عن عائشة قالت فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة من الفراش فالتمسته فوقعت يدي على بطن قدمه، وهو فى المسجد وهما منصو بتان .» [صحيح مسلم: 486]
’’ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہتی ہیں میں نے ایک رات آپ کو بستر سے غائب پایا، تو ٹٹولنے پر میرا ہاتھ آپ کے دونوں قدموں کے تلووں کو لگا، آپ اس وقت سجدہ میں تھے اور آپ کے دونوں پاؤں کھڑے ہوئے تھے۔“
* آپ تکبیر (اللہ اکبر) کہہ کر سجدے سے اٹھتے۔
دلیل: «ثم يكبر حين يرفع رأسه» [صحيح بخاري: 789، صحيح مسلم: 392]
* آپ اللہ اکبر کہہ کر سجدے سے سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھ جاتے۔
دلیل: «ثم يسجد ثم يقول الله أكبر ويرفع رأسه ويثني رجله اليسري فيقعد عليها .» [ابوداود: 730]
* عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ «إنماسنة الصلاة أن تنصب رجلك اليمني وتثني اليسري» [صحيح بخاري: 827]
’’نماز میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت یہ ہے کہ دایاں پاؤں کھڑا کر کے بایاں پاؤں بچھا دے۔“
* آپ سجدے سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
دلیل: «افتتح التكبير فى الصلاة فرفع يديه… وإذا كبر للركو ع فعل مثله وإذا قال سمع الله لمن حمده ولا يفعل ذلك حين يسجد ولا حين يرفع رأسه من السجود .» [صحيح بخاري: 738]
’’ نماز کے شروع میں تکبیر کہتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے … اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے تو ایسا ہی کرتے اور جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تو اسی طرح کرتے اور سجدے اور سجدے سے سر اٹھاتے ہوئے ایسا نہ کرتے۔“
درج بالا اقتباس ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 999 سے ماخوذ ہے۔