حدیث نمبر: 1132
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ الْمِقْسَمِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قال : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قالت : فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَتَحَسَّسْتُهُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " فَقَالَتْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنِّي لَفِي شَأْنٍ وَإِنَّكَ لَفِي آخَرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات ( بستر پر ) موجود نہیں پایا ، تو میں نے گمان کیا کہ آپ اپنی کسی دوسری بیوی کے پاس چلے گئے ہیں ، پھر میں نے آپ کو تلاش کیا تو اچانک کیا دیکھتی ہوں کہ آپ رکوع یا سجدہ کی حالت میں کہہ رہے ہیں : «سبحانك اللہم وبحمدك لا إله إلا أنت» ” اے اللہ ! تو پاک ہے ، میں تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتا ہوں ، نہیں ہے کوئی معبود برحق مگر تو ہی “ ، تو وہ کہنے لگیں : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ! میں کس خیال میں تھی اور آپ کس حال میں ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب التطبيق / حدیث: 1132
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الصلاة 42 (485)، (تحفة الأشراف: 16256) ، مسند احمد 6/151، ویأتی عند المؤلف في عشرة النساء 4 برقم: (3413) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´سجدہ کی ایک اور دعا۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات (بستر پر) موجود نہیں پایا، تو میں نے گمان کیا کہ آپ اپنی کسی دوسری بیوی کے پاس چلے گئے ہیں، پھر میں نے آپ کو تلاش کیا تو اچانک کیا دیکھتی ہوں کہ آپ رکوع یا سجدہ کی حالت میں کہہ رہے ہیں: «سبحانك اللہم وبحمدك لا إله إلا أنت» اے اللہ! تو پاک ہے، میں تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتا ہوں، نہیں ہے کوئی معبود برحق مگر تو ہی ، تو وہ کہنے لگیں: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! میں کس خیال میں تھی اور آپ کس حال میں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1132]
1132۔ اردو حاشیہ: ان دنوں گھروں میں چراغ نہ ہوتے تھے۔ ہوں بھی تو بجھا کر سوتے تھے، اس لیے نوبت یہاں تک پہنچی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1132 سے ماخوذ ہے۔