حدیث نمبر: 1109
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قال : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَكُنْتُ أَرَى عُفْرَةَ إِبْطَيْهِ إِذَا سَجَدَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن اقرم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے آپ کی دونوں بغل کی سفیدی نظر آتی ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب التطبيق / حدیث: 1109
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الصلاة 89 (274)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 19 (881)، (تحفة الأشراف: 5142) ، مسند احمد 4/35 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 274 | سنن ابن ماجه: 881 | مسند الحميدي: 952

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 881 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نماز میں سجدے کا بیان۔`
عبداللہ بن اقرم خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک بار اپنے والد کے ساتھ نمرہ کے میدان میں تھا کہ ہمارے پاس سے کچھ سوار گزرے، انہوں نے راستے کی ایک جانب اپنی سواریوں کو بٹھایا، مجھ سے میرے والد نے کہا: تم اپنے جانوروں میں رہو تاکہ میں ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے پوچھوں (کہ کون لوگ ہیں)، وہ کہتے ہیں: میرے والد گئے، اور میں بھی قریب پہنچا تو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، میں نماز میں حاضر ہوا اور ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی، جب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے میں آپ کی دونوں بغلوں کی سفیدی کو دیکھتا تھا ۲؎۔ ابن ماجہ ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 881]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سفر کے دوران میں رستے میں ٹھرنا پڑے تو سڑک پر ٹھرنے کی بجائے نیچے اتر کر ایک طرف ٹھرنا چاہیے۔

(2)
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین کی نظر میں نماز باجماعت کی اہمیت اس قدر زیادہ تھی کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بکریوں کو اپنی جگہ چھوڑ کرنماز باجماعت میں شرکت کی۔

(3)
رسول اللہ ﷺ نے سجدہ کرتے وقت بازؤں کو پہلوئوں سے ملا کر نہیں رکھا۔
اس لئے صحابہ رضوان للہ عنہم اجمعین کو نبی کریمﷺ کی بغلیں اچھی طرح نظر آ گیئں۔

(2)
بغلوں کی سفیدی کےلئے (عفرۃ)
کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
اس سے مراد ایسا سفید رنگ ہے۔
جس میں سیاہی کی ہلکی سی آمیزش ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریمﷺ کی جلد مبارک کا رنگ بالکل سفید تھا۔
اور بالوں کے اگتے ہوئے سرے سیاہ رنگ کے تھے۔
ان دونوں کے ملنے سے بغلوں کا رنگ سیاہی مائل سفید نظرآیا۔

(5)
بغلوں کے بال اکھاڑنا مسنون ہے۔
جب بال اتنے چھوٹے ہوں کہ اکھاڑنا مشکل ہو اسوقت جس کے سفید رنگ سے مل کر مذکورہ بالا کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔
اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ بال بہت بڑھے ہوئے نہیں تھے۔
ورنہ عفرہ (خاکستری رنگ)
کے بجائےسواد (سیاہی)
کا لفظ بولا جاتا۔
صفائی کا تقاضا یہ ہے کہ جسم کے غیر ضروری بال مناسب حد سے زیادہ نہ بڑھنے دیئے جایئں بروقت صفائی کرلی جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 881 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 952 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
952-عبید اللہ بن عبداللہ اپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نمرہ میں کھلی جگہ پر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:952]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سجدہ میں بازؤوں کو کھول کر رکھنا چاہیے، نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ نماز میں اگر بغلیں ننگی بھی ہو جائیں تو نماز نہیں ٹوٹتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلیں مبارک سفید تھیں۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 951 سے ماخوذ ہے۔