حدیث نمبر: 1093
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ دَلُّوَيْهِ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قال : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَفَعَهُ ، قال : " إِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ فَإِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ فَلْيَضَعْ يَدَيْهِ وَإِذَا رَفَعَهُ فَلْيَرْفَعْهُمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دونوں ہاتھ سجدہ کرتے ہیں جس طرح چہرہ سجدہ کرتا ہے ، لہٰذا جب تم میں کا کوئی اپنا چہرہ زمین پر رکھے تو اپنے دونوں ہاتھ بھی رکھے ، اور جب اسے اٹھائے تو ان دونوں کو بھی اٹھائے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب التطبيق / حدیث: 1093
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´سجدہ میں ہاتھوں کو چہرہ کے ساتھ زمین پر رکھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں ہاتھ سجدہ کرتے ہیں جس طرح چہرہ سجدہ کرتا ہے، لہٰذا جب تم میں کا کوئی اپنا چہرہ زمین پر رکھے تو اپنے دونوں ہاتھ بھی رکھے، اور جب اسے اٹھائے تو ان دونوں کو بھی اٹھائے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1093]
1093۔ اردو حاشیہ: مقصود یہ ہے کہ سجدے میں صرف چہرہ زمین پر لگانا کافی نہیں بلکہ دونوں ہاتھ بھی زمین پر چہرے کے ارد گرد رکھے ہونے چاہئیں تاکہ ان کا بھی سجدہ ہو سکے۔ اگلی روایت میں اس کی مزید وضاحت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1093 سے ماخوذ ہے۔