سنن نسائي
كتاب التطبيق— کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل
بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ لِلسُّجُودِ باب: سجدہ کرتے وقت رفع یدین کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1088
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قال : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ وَإِذَا رَكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہو جاتے .... پھر آگے انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ ” جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو بھی ایسا ہی کرتے ، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو بھی “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´سجدہ کرتے وقت رفع یدین کرنے کا بیان۔`
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہو جاتے .... پھر آگے انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ ” جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو بھی۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1088]
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہو جاتے .... پھر آگے انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ ” جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو بھی۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1088]
1088۔ اردو حاشیہ: حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایات میں سجدے میں جاتے وقت اور سجدے سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرنے کا ذکر ہے، لیکن یہ تینوں روایات ضعیف ہیں جس کی تفصیل تخریج میں موجود ہے۔ اس کے برعکس بالکل صحیح روایات میں سجدے کے رفع الیدین کی نفی آئی ہے۔ ان میں سے ایک روایت اگلے باب میں آرہی ہے۔ ان صحیح روایات کو چھو ڑکر ایک ضعیف یا متنازع فیہ روایت پر عمل کرنا دانش مندی نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1088 سے ماخوذ ہے۔