حدیث نمبر: 1085
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قال : سَمِعْتُ يُوسُفَ وَهُوَ ابْنُ مَاهَكَ يُحَدِّثُ ، عَنْ حَكِيمٍ قال : " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَخِرَّ إِلَّا قَائِمًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حکیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی کہ میں کھڑے کھڑے ہی سجدے میں گروں گا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی رکوع سے واپس قیام میں جاؤں گا، اور سیدھا کھڑا ہو جانے کے بعد سجدہ کے لیے جھکوں گا۔ (دونوں سجدوں کے درمیان رفع یدین کے ذکر کے بغیر یہ حدیث رقم: ۸۸۱ میں گزر چکی ہے)
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب التطبيق / حدیث: 1085
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3437) ، مسند احمد 3/402 (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´سجدہ کے لیے (زمین پر) کیسے جھکے؟`
حکیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی کہ میں کھڑے کھڑے ہی سجدے میں گروں گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1085]
1085۔ اردو حاشیہ: یعنی رکوع ہی سے سیدھا یا رکوع سے مکمل سیدھا کھڑے ہوئے بغیر سجدے میں نہیں جاؤں گا بلکہ رکوع سے سیدھا کھڑا ہوں گا، پھر سجدے میں گروں گا۔ اس جملے کے اور بھی کئی معانی کیے گئے ہیں، مثلاً: میں نہیں مروں گا مگر اسلام پر ثابت قدمی کی حالت میں وغیرہ۔ مگر پہلا معنیٰ ہی مناسب ہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1085 سے ماخوذ ہے۔