سنن نسائي
كتاب التطبيق— کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل
بَابُ : الْقُنُوتِ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ باب: نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1073
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قال : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، قال : حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَامَ هُنَيْهَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن سیرین کہتے ہیں کہ` مجھ سے ایک ایسے شخص نے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی تھی ، بیان کیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں «سمع اللہ لمن حمده» کہا تو آپ تھوڑی دیر کھڑے رہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔`
ابن سیرین کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی تھی، بیان کیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں «سمع اللہ لمن حمده» کہا تو آپ تھوڑی دیر کھڑے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1073]
ابن سیرین کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی تھی، بیان کیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں «سمع اللہ لمن حمده» کہا تو آپ تھوڑی دیر کھڑے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1073]
1073۔ اردو حاشیہ: امام صاحب رحمہ اللہ نے شاید کچھ دیر کھڑے رہنے کو قنوت پر محمول کیا ہے، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے بعد بھی بعض اذکار و اور اد پڑھا کرتے تھے۔ قنوت تو ہاتھ اٹھا کر اور جہراً پڑھی جاتی ہے جیسا کہ روایات میں صراحتاً آیا ہے۔ [مسند أحمد: 3/3]
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1073 سے ماخوذ ہے۔