سنن نسائي
كتاب التطبيق— کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل
بَابُ : الأَمْرِ بِإِتْمَامِ الرُّكُوعِ باب: رکوع اچھی طرح کرنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1055
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قال : سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ إِذَا رَكَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم رکوع اور سجدہ کرو تو انہیں اچھی طرح کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب التطبيق / حدیث: 1055
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 866 | سنن نسائي: 1180
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´رکوع اچھی طرح کرنے کے حکم کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم رکوع اور سجدہ کرو تو انہیں اچھی طرح کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1055]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم رکوع اور سجدہ کرو تو انہیں اچھی طرح کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1055]
1055۔ اردو حاشیہ: ➊ مکمل کرنے سے مراد اعتدال، اطمینان اور تسبیحات و اذکار کا پڑھنا ہے جن کی تفصیل سابقہ احادیث میں گزر چکی ہے۔
➋ امام کو گاہے گاہے نماز کے احکام کی تلقین کرتے رہنا چاہیے، خصوصاً جب مقتدی ارکان نماز صحیح طریقے سے ادا نہ کر رہے ہوں۔
➋ امام کو گاہے گاہے نماز کے احکام کی تلقین کرتے رہنا چاہیے، خصوصاً جب مقتدی ارکان نماز صحیح طریقے سے ادا نہ کر رہے ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1055 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1180 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´دوسری رکعت سے اٹھتے وقت تکبیر کہنے کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن اصم کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز میں اللہ اکبر کہنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر کہے جب رکوع میں جائے، اور جب سجدہ میں جائے، اور جب سجدہ سے سر اٹھائے، اور جب دوسری رکعت سے اٹھے۔ حطیم نے پوچھا: آپ نے اسے کس سے سن کر یاد کیا ہے، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم سے، پھر وہ خاموش ہو گئے، تو حطیم نے ان سے کہا، اور عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی؟ انہوں نے کہا: اور عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1180]
عبدالرحمٰن بن اصم کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز میں اللہ اکبر کہنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر کہے جب رکوع میں جائے، اور جب سجدہ میں جائے، اور جب سجدہ سے سر اٹھائے، اور جب دوسری رکعت سے اٹھے۔ حطیم نے پوچھا: آپ نے اسے کس سے سن کر یاد کیا ہے، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم سے، پھر وہ خاموش ہو گئے، تو حطیم نے ان سے کہا، اور عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی؟ انہوں نے کہا: اور عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1180]
1180۔ اردو حاشیہ: تکبیر تحریمہ تو متفق علیہ ہے، نیز اس میں کوئی سستی نہیں کرتا تھا، اس لیے اس کا ذکر نہیں کیا۔ باقی تکبیرات میں بعض ائمہ سستی کر جاتے تھے، اس لیے ان کا ذکر فرما دیا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1180 سے ماخوذ ہے۔