حدیث نمبر: 1034
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قال : " رَكَعْتُ فَطَبَّقْتُ " فَقَالَ أَبِي : " إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كُنَّا نَفْعَلُهُ ، ثُمَّ ارْتَفَعْنَا إِلَى الرُّكَبِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ` میں نے رکوع کیا ، تو اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر کے اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان کر لیا ، تو میرے والد نے کہا : پہلے ہم ایسا ہی کرتے تھے ، پھر ہم اسے اٹھا کر گھٹنوں پر رکھنے لگے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب التطبيق / حدیث: 1034
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 535 | سنن ابن ماجه: 873

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 873 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا بیان۔`
معصب بن سعد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے قریب (نماز پڑھتے ہوئے) رکوع کیا تو تطبیق کی۔ انہوں نے میرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ہم پہلے اس طرح کیا کرتے تھے، پھر ہمیں حکم دیا کہ (ہاتھ) گھٹنوں کے اوپر رکھیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 873]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
’’تطبیق‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کوملا کر انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر رانوں کے درمیان ہاتھ رکھے جایئں۔
رکوع کا یہ طریقہ منسوخ ہوچکا ہے۔

(2)
جو حکم منسوخ ہوچکا ہو اس پر عمل کرنا جائز نہیں۔

(3)
رکوع کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ گھٹنوں پر اس طرح رکھے جایئں۔
جس طرح گھٹنوں کو پکڑا جاتا ہے۔
دیکھئے: (جامع الترمذي، الصلاۃ، باب ماجاء انه یجافی یدیه عن جنبیه في الرکوع، حدیث: 260)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 873 سے ماخوذ ہے۔