کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: چند آدمیوں کے گناہ کی وجہ سے ساری خلقت کے تباہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1826
حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ " إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم اس وقت بھی تباہ ہوں گے جب ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! جب گناہ بہت ہونے لگیں۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجامع / حدیث: 1826
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع ضعيف
تخریج حدیث «مرفوع ضعيف،
یہ سند منقطع ہے اور یہ روایت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہی نہیں ہے، البتہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے۔ دیکھئے: بخاری: 3346، مسلم: 2880، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 22»
حدیث نمبر: 1827
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، يَقُولُ : " كَانَ يُقَالُ : إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِذَنْبِ الْخَاصَّةِ، وَلَكِنْ إِذَا عُمِلَ الْمُنْكَرُ جِهَارًا اسْتَحَقُّوا الْعُقُوبَةَ كُلُّهُمْ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عمر بن عبدالعزیز کہتے تھے کہ اللہ جل جلالہُ کسی خاص شخصوں کے گناہ کے سبب عام لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہ کرے گا، مگر جب گناہ کی بات اعلانیہ کی جائے گی تو سب کے سب عذاب کے لائق ہوں گے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجامع / حدیث: 1827
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه الحميدي فى «مسنده» برقم: 271، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 36245، والبيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 7602، أبو نعيم فى «حلية الاولياء» برقم: 2985، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 23»