حدیث نمبر: 1797
حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا يُطِيقُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”مملوک (غلام لونڈی) کو کپڑا اور کھانا ملے گا موافق دستور کے، اور کام اس سے نہ لیا جائے طاقت سے زیادہ۔“
حدیث نمبر: 1798
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ " يَذْهَبُ إِلَى الْعَوَالِي كُلَّ يَوْمِ سَبْتٍ، فَإِذَا وَجَدَ عَبْدًا فِي عَمَلٍ لَا يُطِيقُهُ وَضَعَ عَنْهُ مِنْهُ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہر ہفتے کے روز مدینے کے آس پاس گاؤں میں جایا کر تے تھے، جب کسی غلام کو ایسے کام میں مشغول پاتے جو اس کی طاقت سے زیادہ ہوتا تو کم کر دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 1799
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَهُوَ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ : " لَا تُكَلِّفُوا الْأَمَةَ، غَيْرَ ذَاتِ الصَّنْعَةِ الْكَسْبَ، فَإِنَّكُمْ مَتَى كَلَّفْتُمُوهَا ذَلِكَ كَسَبَتْ بِفَرْجِهَا، وَلَا تُكَلِّفُوا الصَّغِيرَ الْكَسْبَ، فَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يَجِدْ سَرَقَ، وَعِفُّوا إِذْ أَعَفَّكُمُ اللَّهُ، وَعَلَيْكُمْ مِنَ الْمَطَاعِمِ بِمَا طَابَ مِنْهَا "
علامہ وحید الزماں
حضرت مالک بن ابی عامر اصبحی نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ خطبے میں فرماتے تھے: جو لونڈی کوئی ہنر نہ جانتی ہو اس کو مجبور مت کرو کمائی پر، کیونکہ جب تم اس کو مجبور کرو گے کمائی پر تو وہ کسب (غلط کام) کرے گی، اور نابالغ غلام کو کمائی پر مجبور مت کرو، کیونکہ وہ جب مجبور ہوگا تو چوری کرے گا، اور جب اللہ تمہیں اچھی طرح روزی دیتا ہے تو تم بھی ان کو محنت معاف کر دو جیسے اللہ نے تمہیں معاف کیا ہے، اور لازم کرو وہ کمائی جو حلال ہے۔