حدیث نمبر: 1724
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِإِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَاءِ اللِّحَى "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھوں کے مونڈنے اور داڑھیوں کے چھوڑ دینے (بڑھانے) کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 1725
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ كَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ، يَقُولُ : يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ، وَيَقُولُ : " إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ "
علامہ وحید الزماں
حضرت حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف سے روایت ہے کہ انہوں نے معاویہ بن ابوسفیان سے سنا جس سال انہوں نے حج کیا اور وہ منبر پر تھے، انہوں نے ایک بالوں کا چٹلا اپنے خادم کے ہاتھ سے لیا اور کہتے تھے کہ اے مدینہ والو! کہاں ہیں علماء تمہارے؟ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منع کرتے تھے اس سے، اور فرماتے تھے: ”تباہ ہوئے بنی اسرائیل جب ان کی عورتوں نے یہ کام شروع کیا۔“
حدیث نمبر: 1726
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : " سَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ فَرَقَ بَعْدَ ذَلِكَ " .
علامہ وحید الزماں
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بال پیشانی کی طرف لٹکاتے رہے ایک مدت تک، بعد اس کے مانگ نکالنے لگے۔
حدیث نمبر: 1726B1
قَالَ مَالِك : لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى شَعَرِ امْرَأَةِ ابْنِهِ أَوْ شَعَرِ أُمِّ امْرَأَتِهِ بَأْسٌ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اپنی بہو یا ساس کے بال دیکھنے میں کچھ قباحت نہیں۔
حدیث نمبر: 1727
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الْإِخْصَاءَ، وَيَقُولُ : " فِيهِ تَمَامُ الْخَلْقِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مکروہ جانتے تھے خصی کرنے کو، اور کہتے تھے کہ خصیے رکھنے میں پیدائش کو پورا کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 1728
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ إِذَا اتَّقَى "، وَأَشَارَ بِإِصْبُعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ
علامہ وحید الزماں
حضرت صفوان بن سلیم کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور یتیم کا پالنے والا، خواہ یتیم کا عزیز ہو یا غیر، بہشت میں ایسے ہیں جیسے یہ دونوں انگلیاں جبکہ پرہیزگاری کرے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کلمہ کی انگلی اور بیچ کی انگی کی طرف۔