حدیث نمبر: 1628
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، قَالَ : آخِرُ مَا أَوْصَانِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَعْتُ رِجْلِي فِي الْغَرْزِ، أَنْ قَالَ : " أَحْسِنْ خُلُقَكَ لِلنَّاسِ يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آخری وصیت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو کی جب میں رکاب میں پاؤں رکھنے لگا، یہ تھی: ”اے معاذ! خوش خلقی کر لوگوں سے۔“
حدیث نمبر: 1629
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ : " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرَيْنِ قَطُّ، إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ، إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ بِهَا "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دنیا کے دو کاموں میں اختیار ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسان امر کو اختیار کیا، بشرطیکہ اس میں گناہ نہ ہو، اگر گناہ ہوتا تو سب سے زیادہ آپ اس سے پرہیز کرتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے واسطے کسی سے بدلہ نہیں لیتے تھے، مگر جب اللہ کی حرمت میں خلل پڑے تو اس وقت بدلہ لیتے تھے اللہ کے واسطے۔
حدیث نمبر: 1630
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت زین العابدین سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”اسلام کی بہتر باتوں میں سے یہ ہے کہ آدمی بے کار اور فضول چیزوں کو چھوڑ دے۔“
حدیث نمبر: 1631
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ : اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَأَنَا مَعَهُ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ "، ثُمَّ أَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ سَمِعْتُ ضَحِكَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلُ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ فِيهِ مَا قُلْتَ، ثُمَّ لَمْ تَنْشَبْ أَنْ ضَحِكْتَ مَعَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ " مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنِ اتَّقَاهُ النَّاسُ لِشَرِّهِ "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اذن چاہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی گھر میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برا آدمی ہے یہ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آنے کی اجازت دی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تھوڑی دیر نہیں گزری تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے اس کے ساتھ ہنستے ہوئے سنا، جب وہ چلا گیا تو میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ابھی تو آپ نے اس کو بُرا کہا تھا، ابھی آپ اس سے ہنسنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب آدمیوں میں برا وہ آدمی ہے جس سے لوگ بچیں، یا ڈریں اس کے شر کے سبب سے۔“
حدیث نمبر: 1632
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا أَحْبَبْتُمْ أَنْ تَعْلَمُوا مَا لِلْعَبْدِ عِنْدَ رَبِّهِ، فَانْظُرُوا مَاذَا يَتْبَعُهُ مِنْ حُسْنِ الثَّنَاءِ ؟ "
علامہ وحید الزماں
حضرت کعب احبار نے کہا کہ جب تم کسی بندہ کا حال جاننا چاہو اس کے پروردگار کے پاس (یعنی مقبول ہوا یا مردود، جنتی ہوا یا دوزخی) تو دیکھو لوگ اس کو کیسا کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1633
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ " الْمَرْءَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الْقَائِمِ بِاللَّيْلِ الظَّامِي بِالْهَوَاجِرِ "
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ مجھ کو یہ پہنچا کہ آدمی حسنِ خلق کی وجہ سے رات بھر عبادت کرنے والے اور دن بھر پیاسے رہنے والے (روزہ دار) کا درجہ حاصل کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 1634
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرٍ مِنْ كَثِيرٍ مِنَ الصَّلَاةِ وَالصَّدَقَةِ "، قَالُوا : بَلَى، قَالَ : " إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْبِغْضَةَ فَإِنَّهَا هِيَ الْحَالِقَةُ "
علامہ وحید الزماں
سعید بن مسیّب نے کہا: کیا میں نہ بتاؤں تم کو وہ چیز جو بہت سی نمازوں اور صدقہ سے بہتر ہے؟ لوگوں نے کہا: بتاؤ۔ سعید نے کہا: ایک دوسرے کے بیچ صلح کرا دینا، اور بچو تم بغض اور عدوات سے، یہ خصلت مونڈنے والی ہے نیکیوں کو۔
حدیث نمبر: 1635
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك أَنَّهُ قَدْ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ حُسْنَ الْأَخْلَاقِ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس واسطے بھیجا گیا کہ اخلاق کی خوبیوں کو پورا کردوں۔“