حدیث نمبر: 1609
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، يَقُولُ : كَانَ مِنْ آخِرِ مَا تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ قَالَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ، لَا يَبْقَيَنَّ دِينَانِ بِأَرْضِ الْعَرَبِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عمر بن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری کلام یہ فرمایا: ”اللہ جل جلالہُ تباہ کرے یہود اور نصاریٰ کو، انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجدیں بنایا۔ آگاہ رہو عرب میں دو دین نہ رہیں۔“
حدیث نمبر: 1610
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَجْتَمِعُ دِينَانِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ " .
علامہ وحید الزماں
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جزیرۂ عرب میں دو دین نہ رہیں۔“
حدیث نمبر: 1610B1
قَالَ مَالِك : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَفَحَصَ عَنْ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَتَّى أَتَاهُ الثَّلْجُ وَالْيَقِينُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَجْتَمِعُ دِينَانِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ "، فَأَجْلَى يَهُودَ خَيْبَرَ . قَالَ مَالِك : وَقَدْ أَجْلَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَهُودَ نَجْرَانَ وَفَدَكَ، فَأَمَّا يَهُودُ خَيْبَرَ فَخَرَجُوا مِنْهَا لَيْسَ لَهُمْ مِنَ الثَّمَرِ وَلَا مِنَ الْأَرْضِ شَيْءٌ، وَأَمَّا يَهُودُ فَدَكَ فَكَانَ لَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ وَنِصْفُ الْأَرْضِ، لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ صَالَحَهُمْ عَلَى نِصْفِ الثَّمَرِ وَنِصْفِ الْأَرْضِ، فَأَقَامَ لَهُمْ عُمَرُ نِصْفَ الثَّمَرِ وَنِصْفَ الْأَرْضِ قِيمَةً مِنْ ذَهَبٍ وَوَرِقٍ وَإِبِلٍ وَحِبَالٍ وَأَقْتَابٍ، ثُمَّ أَعْطَاهُمُ الْقِيمَةَ وَأَجْلَاهُمْ مِنْهَا
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ابن شہاب نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کا تجسس کیا، جب ان کی تشفّی ہوگئی اور یقین ہوگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جزیرۂ عرب میں دو دین نہ رہیں“ تو انہوں نے خیبر کے یہودیوں کو خیبر سے نکال دیا، اور فدک اور نجران کے یہودیوں کو بھی نکال دیا، لیکن خیبر کے یہودی ان کی نہ زمین تھی نہ درخت، اور فدک کے یہودیوں کا آدھا میوہ تھا اور آدھی زمین، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر پر ان سے صلح کر لی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آدھی زمین اور میوے کی قیمت لگا کر ان کے حوالے کر دی اور ان کو نکال دیا۔