حدیث نمبر: 1586
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ، فَقَالَ : " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا بتع (شہد کی شراب) کا حکم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شراب نشہ کرے وہ حرام ہے۔“
حدیث نمبر: 1587
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْغُبَيْرَاءِ، فَقَالَ : " لَا خَيْرَ فِيهَا "، وَنَهَى عَنْهَا . قَالَ مَالِك : فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ : مَا الْغُبَيْرَاءُ ؟ فَقَالَ : هِيَ الْأُسْكَرْكَةُ .
علامہ وحید الزماں
عطاء بن یسار سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا جوار کی شراب کے بارے میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر نہیں ہے۔“ اور منع کیا اس سے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ پھر میں نے زید بن اسلم رحمہ اللہ سے پوچھا کہ «غُبَيْرَاء» کیا چیز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: یہ «سْكَرْكَةُ» یعنی مکئی کی شراب ہے۔
حدیث نمبر: 1588
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا حُرِمَهَا فِي الْآخِرَةِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دنیا میں شراب پئے گا، پھر اس سے توبہ نہ کرے گا تو آخرت میں شراب سے محروم رہے گا۔“