کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: قتل عمد کا بیان
حدیث نمبر: 1534
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ مَوْلَى عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ " أَقَادَ وَلِيَّ رَجُلٍ مِنْ رَجُلٍ قَتَلَهُ بِعَصًا فَقَتَلَهُ وَلِيُّهُ بِعَصًا " .
علامہ وحید الزماں
ایک شخص نے دوسرے کو لکڑی سے مار ڈالا، عبدالملک بن مروان نے قاتل کو ولی مقتول کے حوالے کیا، اس نے بھی اس کو لکڑی سے مار ڈالا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العقول / حدیث: 1534
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16190، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15»
حدیث نمبر: 1534B1
قَالَ مَالِك : وَالْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا، أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا ضَرَبَ الرَّجُلَ بِعَصًا أَوْ رَمَاهُ بِحَجَرٍ أَوْ ضَرَبَهُ عَمْدًا فَمَاتَ مِنْ ذَلِكَ، فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ الْعَمْدُ وَفِيهِ الْقِصَاصُ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو لکڑی یا پتھر سے قصداً مارے اور وہ ہلاک ہو جائے تو قصاص لیا جائے گا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العقول / حدیث: 1534B1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15»
حدیث نمبر: 1534B2
قَالَ مَالِك : فَقَتْلُ الْعَمْدِ عِنْدَنَا أَنْ يَعْمِدَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فَيَضْرِبَهُ حَتَّى تَفِيظَ نَفْسُهُ، وَمِنَ الْعَمْدِ أَيْضًا أَنْ يَضْرِبَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي النَّائِرَةِ تَكُونُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ عَنْهُ وَهُوَ حَيٌّ، فَيُنْزَى فِي ضَرْبِهِ فَيَمُوتُ فَتَكُونُ فِي ذَلِكَ الْقَسَامَةُ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک قتلِ عمد یہی ہے کہ ایک آدمی دوسرے کو قصداً مارے یہاں تک کہ اس کا دم نکل جائے، اور یہ بھی قتلِ عمد ہے کہ ایک شخص سے دشمنی ہو اس کو ایک ضرب لگا کر چلا آئے اس وقت وہ زندہ ہو، بعد اس کے اسی ضرب سے مر جائے، اس میں قسامت واجب ہوگی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العقول / حدیث: 1534B2
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15»
حدیث نمبر: 1534B3
قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ عِنْدَنَا، أَنَّهُ يُقْتَلُ فِي الْعَمْدِ الرِّجَالُ الْأَحْرَارُ بِالرَّجُلِ الْحُرِّ الْوَاحِدِ، وَالنِّسَاءُ بِالْمَرْأَةِ كَذَلِكَ، وَالْعَبِيدُ بِالْعَبْدِ كَذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: قتلِ عمد میں ایک شخص آزاد کے عوض میں کئی شخص آزاد مارے جائیں گے کہ جب سب قتل میں شریک ہوں اسی طرح عورتوں اور غلاموں میں بھی حکم ہوگا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العقول / حدیث: 1534B3
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15»