کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: قتل عمد میں جب مقتول کے وارث دیت پر راضی ہو جائیں اس کا بیان ، اور مجنوں کی جنایت کا بیان
حدیث نمبر: 1496
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، كَانَ يَقُولُ فِي دِيَةِ الْعَمْدِ : " إِذَا قُبِلَتْ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً "
علامہ وحید الزماں
حضرت ابن شہاب کہتے تھے قتلِ عمد میں کہ جب مقتول کے وارث دیت پر راضی ہو جائیں تو دیت پچیس بنت مخاض، اور پچیس بنت لبون، اور پچیس حقے، اور پچیس جذعے ہوگی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العقول / حدیث: 1496
درجۂ حدیث محدثین: [مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وانفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 2ق»
حدیث نمبر: 1497
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ : أَنَّهُ أُتِيَ بِمَجْنُونٍ قَتَلَ رَجُلًا، فَكَتَبَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ : " أَنِ اعْقِلْهُ وَلَا تُقِدْ مِنْهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَى مَجْنُونٍ قَوَدٌ " .
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے معاویہ بن ابی سفیان کو لکھا کہ میرے پاس ایک مجنون لایا گیا ہے، جس نے ایک شخص کو مار ڈالا۔ معاویہ نے جواب میں لکھا کہ اسے قید کر اور اس سے قصاص نہ لے، کیونکہ مجنون پر قصاص نہیں ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العقول / حدیث: 1497
درجۂ حدیث محدثین: موقوف ضعيف
تخریج حدیث «موقوف ضعيف، أخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 15979، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 3»
حدیث نمبر: 1497B1
قَالَ مَالِك، فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ إِذَا قَتَلَا رَجُلًا جَمِيعًا عَمْدًا : أَنَّ عَلَى الْكَبِيرِ أَنْ يُقْتَلَ، وَعَلَى الصَّغِيرِ نِصْفُ الدِّيَةِ . قَالَ مَالِك : وَكَذَلِكَ الْحُرُّ وَالْعَبْدُ يَقْتُلَانِ الْعَبْدَ فَيُقْتَلُ الْعَبْدُ وَيَكُونُ عَلَى الْحُرِّ نِصْفُ قِيمَتِهِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر ایک بالغ اور نابالغ نے مل کر ایک شخص کو عمداً قتل کیا تو بالغ سے قصاص لیا جائے گا، اور نابالغ پر آدھی دیت لازم ہوگی۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسی طرح سے ایک آزاد شخص اور ایک غلام مل کر ایک غلام کو عمداً مار ڈالیں تو غلام قصاصاً قتل کیا جائے گا، اور آزاد پر آدھی قیمت اس غلام کی لازم ہو گی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العقول / حدیث: 1497B1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 3»