حدیث نمبر: 1486
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا اُسامہ بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔“
حدیث نمبر: 1487
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ : " إِنَّمَا وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ، عَقِيلٌ، وَطَالِبٌ، وَلَمْ يَرِثْهُ عَلِيٌّ، قَالَ : فَلِذَلِكَ تَرَكْنَا نَصِيبَنَا مِنَ الشِّعْبِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت علی بن حسین یعنی امام زین العابدین سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب ابو طالب مر گئے تو ان کے وارث عقیل اور طالب ہوئے(1)، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے وارث نہیں ہوئے(2)۔ علی بن حسین نے کہا: اسی واسطے ہم نے اپنا حصّہ مکہ کے گھروں میں سے چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 1488
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَشْعَثِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَمَّةً لَهُ يَهُودِيَّةً أَوْ نَصْرَانِيَّةً تُوُفِّيَتْ، وَأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَشْعَثِ ذَكَرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَقَالَ لَهُ : مَنْ يَرِثُهَا ؟ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " يَرِثُهَا أَهْلُ دِينِهَا " . ثُمَّ أَتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : أَتُرَانِي نَسِيتُ مَا قَالَ لَكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ؟ يَرِثُهَا أَهْلُ دِينِهَا
علامہ وحید الزماں
محمد بن اشعث کی ایک پھوپھی یہودی تھی یا نصرانی مر گئی، محمد بن اشعث نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا اور پوچھا کہ اس کا کون وارث ہوگا؟ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے مذہب والے وارث ہوں گے۔ پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہوئے تو ان سے پوچھا۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تو سمجھتا ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جو تجھ سے کہا تھا اس کو میں بھول گیا، وہی اس کے وارث ہوں گے جو اس کے مذہب والے ہیں۔
حدیث نمبر: 1489
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، أَنَّ نَصْرَانِيًّا أَعْتَقَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، هَلَكَ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ : " فَأَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنْ أَجْعَلَ مَالَهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت اسمعیل بن ابی حکیم سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کا ایک غلام نصرانی تھا، اس کو انہوں نے آزاد کر دیا، وہ مر گیا تو عمر بن عبدالعزیز نے مجھ سے کہا کہ اس کا مال بیت المال میں داخل کر دو۔
حدیث نمبر: 1490
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنِ الثِّقَةِ عِنْدَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ : أَبَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " أَنْ يُوَرِّثَ أَحَدًا مِنَ الْأَعَاجِمِ، إِلَّا أَحَدًا وُلِدَ فِي الْعَرَبِ " .
علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن مسیّب کہتے تھے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انکار کیا غیر ملک کے لوگوں کی میراث دلانے کا اپنے ملک والوں کو، مگر جو عرب میں پیدا ہوا ہو۔
حدیث نمبر: 1490B1
قَالَ مَالِكٌ : وَإِنْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ حَامِلٌ مِنْ أَرْضِ الْعَدُوِّ، فَوَضَعَتْهُ فِي أَرْضِ الْعَرَبِ، فَهُوَ وَلَدُهَا، يَرِثُهَا إِنْ مَاتَتْ، وَتَرِثُهُ إِنْ مَاتَ، مِيرَاثَهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ . قَالَ مَالِكٌ : الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا، وَالسُّنَّةُ الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا، وَالَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا : أَنَّهُ لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ بِقَرَابَةٍ، وَلَا وَلَاءٍ، وَلَا رَحِمٍ، وَلَا يَحْجُبُ أَحَدًا عَنْ مِيرَاثِهِ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر ایک عورت حاملہ کفار کے ملک میں سے آکر عرب میں رہے، اور وہاں (بچہ) جنے تو وہ اپنے لڑکے کی وارث ہوگی اور لڑکا اس کا وارث ہو گا۔
حدیث نمبر: 1490B2
قَالَ مَالِكٌ : وَكَذَلِكَ كُلُّ مَنْ لَا يَرِثُ إِذَا لَمْ يَكُنْ دُونَهُ وَارِثٌ، فَإِنَّهُ لَا يَحْجُبُ أَحَدًا عَنْ مِيرَاثِهِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اجماعی ہے اور اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ مسلمان کافر کا کسی رشتہ کی وجہ سے وارث نہیں ہو سکتا، خواہ وہ رشتہ ناطے کا ہو یا ولاء کا یا قرابت کا، اور نہ کسی کو اس کی وراثت سے محروم کر سکتا ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسی طرح جو شخص میراث نہ پائے وہ دوسرے کو محروم نہیں کر سکتا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسی طرح جو شخص میراث نہ پائے وہ دوسرے کو محروم نہیں کر سکتا۔
حدیث نمبر: 1490B3