کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: ضعیف اور کم سن اور مجنوں اور احمق کی وصیت کا بیان
حدیث نمبر: 1469
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : إِنَّ هَاهُنَا غُلَامًا يَفَاعًا لَمْ يَحْتَلِمْ مِنْ غَسَّانَ وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ، وَهُوَ ذُو مَالٍ، وَلَيْسَ لَهُ هَاهُنَا إِلَّا ابْنَةُ عَمٍّ لَهُ . قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " فَلْيُوصِ لَهَا " . قَالَ : فَأَوْصَى لَهَا بِمَالٍ، يُقَالُ لَهُ : بِئْرُ جُشَمٍ . قَالَ عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ : فَبِيعَ ذَلِكَ الْمَالُ بِثَلَاثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، وَابْنَةُ عَمِّهِ الَّتِي أَوْصَى لَهَا هِيَ أُمُّ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ
علامہ وحید الزماں
حضرت عمرو بن سلیم زرقی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ اس جگہ مدینہ میں ایک لڑکا ہے قریب بلوغ کے، مگر بالغ نہیں ہوا، قبیلہ غسان سے، اور اس کے وارث شام میں ہیں، اور اس کے پاس مال ہے، اور یہاں اس کا کوئی وارث نہیں سوائے ایک چچا زاد بہن کے۔ تو سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کو وصیت کرے۔ اس لڑکے نے مال کی وصیت جس کا نام بئر جشم تھا، اپنی چچا زاد بہن کے واسطے کی۔ عمرو بن سلیم نے کہا: وہ مال تیس ہزار درہم کا بکا۔ اور اس کی چچا زاد بہن عمرو بن سلیم کی ماں تھی۔
حدیث نمبر: 1470
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ " غُلَامًا مِنْ غَسَّانَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ، وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ فُلَانًا يَمُوتُ، أَفَيُوصِي ؟ قَالَ : " فَلْيُوصِ " . ¤ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَكَانَ الْغُلَامُ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ أَوِ اثْنَتَيْ عَشَرَةَ سَنَةً . قَالَ : فَأَوْصَى بِبِئْرِ جُشَمٍ، فَبَاعَهَا أَهْلُهَا بِثَلَاثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ . ¤
علامہ وحید الزماں
حضرت ابوبکر بن حزم سے روایت ہے کہ ایک لڑکا غسان کا مرنے لگا مدینہ میں، اور وارث اس کے شام میں تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر ہوا اور پوچھا گیا: کیا وصیت کرے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وصیت کرے۔ یحییٰ بن سعید نے کہا: وہ لڑکا دس برس کا تھا یا بارہ برس کا، اور بئر جشم (اس مال کا نام تھا) چھوڑ گیا اس کی وصیت کر گیا، لوگوں نے اسے تیس ہزار درہم کا بیچا۔
حدیث نمبر: 1470B1
قَالَ يَحْيَى : سَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ : الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا، أَنَّ الضَّعِيفَ فِي عَقْلِهِ وَالسَّفِيهَ وَالْمُصَابَ الَّذِي يُفِيقُ، أَحْيَانًا تَجُوزُ وَصَايَاهُمْ إِذَا كَانَ مَعَهُمْ مِنْ عُقُولِهِمْ مَا يَعْرِفُونَ مَا يُوصُونَ بِهِ، فَأَمَّا مَنْ لَيْسَ مَعَهُ مِنْ عَقْلِهِ مَا يَعْرِفُ بِذَلِكَ مَا يُوصِي بِهِ وَكَانَ مَغْلُوبًا عَلَى عَقْلِهِ، فَلَا وَصِيَّةَ لَهُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ ضعیف العقل اور نادان اور مجنوں کی جس کو کبھی آفاقہ ہوجاتا ہے، وصیت درست ہے، جب اتنی عقل رکھتے ہوں کہ وصیت جو کریں اس کو سمجھیں، اگر اتنی بھی عقل نہ ہو تو اس کی وصیت درست نہیں ہے۔