حدیث نمبر: 1459
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ : " اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا " . قَالَ فَضَالَّةُ : الْغَنَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " . قَالَ فَضَالَّةُ : الْإِبِلِ . قَالَ : " مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہچان رکھ ظرف اس کا (جس میں لقطہ ہو، خواہ چمڑے میں ہو یا کپڑے میں ہو) اور پہچان رکھ بندھن اس کا، پھر ایک برس تک لوگوں سے اس کا حال کہا کر، اگر اس کا مالک مل جائے تو اس کو دے دے، نہیں تو لے لے۔“ پھر اس نے کہا: اگر کوئی بکری بہکی بھٹکی مل جائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بکری تیرے کام میں آئے گی، یا تیرے بھائی کے، نہیں تو بھیڑیا کھا جائے گا۔“ پھر اس شخص نے کہا: اگر اونٹ بھولا بھٹکا ملے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹ سے تجھے کیا کام، وہ تو اپنے ساتھ اپنا پانی رکھتا ہے، اور موزے رکھتا ہے، جہاں اس کو پانی مل جاتا ہے پی لیتا ہے، جو درخت ملتا ہے کھالیتا ہے، یہاں تک کہ مالک اس کا اس کو پا لیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1460
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ نَزَلَ مَنْزِلَ قَوْمٍ بِطَرِيقِ الشَّامِ فَوَجَدَ صُرَّةً فِيهَا ثَمَانُونَ دِينَارًا، فَذَكَرَهَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : " عَرِّفْهَا عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ، وَاذْكُرْهَا لِكُلِّ مَنْ يَأْتِي مِنَ الشَّأْمِ سَنَةً، فَإِذَا مَضَتِ السَّنَةُ فَشَأْنَكَ بِهَا "
علامہ وحید الزماں
حضرت معاویہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ نے بیان کیا کہ انہوں نے شام کے راستے میں ایک منزل میں جہاں لوگ اتر چکے تھے، ایک تھیلی پائی جس مں اسّی (80) دینار تھے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: مسجدوں کے دروازوں پر لوگوں سے کہا کر، اور جو شخص شام سے آئے اس سے بیان کیا کر ایک برس تک، جب ایک برس گزر جائے پھر تجھ کو اختیار ہے۔
حدیث نمبر: 1461
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ لُقَطَةً، فَجَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ : إِنِّي وَجَدْتُ لُقَطَةً، فَمَاذَا تَرَى فِيهَا ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " عَرِّفْهَا " . قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ . قَالَ : " زِدْ " . قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " لَا آمُرُكَ أَنْ تَأْكُلَهَا، وَلَوْ شِئْتَ لَمْ تَأْخُذْهَا "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ ایک شخص نے لقطہ پایا، اس کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس لے آیا اور پوچھا: کیا کہتے ہو اس باب میں؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: لوگوں سے پوچھ اور بتا۔ اس نے کہا: میں پوچھ چکا اور بتا چکا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اور سہی۔ اس نے کہا: میں پوچھ چکا اور بتا چکا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں کبھی تجھ کو حکم نہ کروں گا اس کے کھانے کا، اگر تو چاہتا تو اس کو نہ لیتا۔