حدیث نمبر: 1450
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ فَأَفْسَدَتْ فِيهِ " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلَى أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَأَنَّ مَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا "
علامہ وحید الزماں
حضرت حرام بن سعد محیصہ سے روایت ہے کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا اونٹ ایک باغ میں چلا گیا اور نقصان کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا کہ ”باغ کی حفاظت دن کو باغ والے کے ذمے ہے، البتہ اگر رات کو کسی کا جانور باغ میں جا کر نقصان کرے تو ضمان اس کا جانور کے مالک پر ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1451
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، أَنّ رَقِيقًا لِحَاطِبٍ سَرَقُوا نَاقَةً لِرَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَانْتَحَرُوهَا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَأَمَرَ عُمَرُ، كَثِيرَ بْنَ الصَّلْتِ أَنْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : " أَرَاكَ تُجِيعُهُمْ "، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : " وَاللَّهِ لَأُغَرِّمَنَّكَ غُرْمًا يَشُقُّ عَلَيْكَ "، ثُمَّ قَالَ لِلْمُزَنِيِّ : " كَمْ ثَمَنُ نَاقَتِكَ ؟ " فَقَالَ الْمُزَنِيُّ : قَدْ كُنْتُ وَاللَّهِ أَمْنَعُهَا مِنْ أَرْبَعِ مِائَةِ دِرْهَمٍ . فَقَالَ عُمَرُ : " أَعْطِهِ ثَمَانَ مِائَةِ دِرْهَمٍ " .
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب سے روایت ہے کہ غلاموں نے ایک شخص کا اونٹ چرا کر کاٹ ڈالا۔ جب یہ مقدمہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے کثیر بن صلت سے کہا: ان غلاموں کا ہاتھ کاٹ ڈال، پھر حاطب سے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ تو ان غلاموں کو بھوکا رکھتا ہوگا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا حاطب سے: قسم اللہ کی! میں تجھ سے ایسا تاوان دلاؤں گا جو تجھ پر بہت گراں گزرے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اونٹ والے سے پوچھا: تیرا اونٹ کتنے کا ہوگا؟ اس نے کہا: میں نے چار سو درہم کو اسے نہیں بیچا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آٹھ سو درہم اس کے دے۔
حدیث نمبر: 1451B1
قَالَ يَحْيَى : سَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ : وَلَيْسَ عَلَى هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَنَا فِي تَضْعِيفِ الْقِيمَةِ، وَلَكِنْ مَضَى أَمْرُ النَّاسِ عِنْدَنَا عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا يَغْرَمُ الرَّجُلُ قِيمَةَ الْبَعِيرِ أَوِ الدَّابَّةِ يَوْمَ يَأْخُذُهَا
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک قیمت دوچند لینے میں اس روایت پر عمل نہ ہوگا، لیکن در آمد لوگوں کی یہ رہی کہ اس جانور کی جو قیمت چرانے کے دن ہوگی وہ دینی ہوگی۔