کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: جو شخص اپنی عورت کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو پائے اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 1431
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتَ " إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا، أَأُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اگر میں اپنی عورت کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں، کیا میں اس کو مہلت دوں یہاں تک کہ چار گواہ لاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 1432
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، يُقَالُ لَهُ : ابْنُ خَيْبَرِيٍّ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَقَتَلَهُ أَوْ قَتَلَهُمَا مَعًا، فَأَشْكَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْقَضَاءُ فِيهِ، فَكَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ يَسْأَلُ لَهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَنْ ذَلِكَ، فَسَأَلَ أَبُو مُوسَى عَنْ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : " إِنَّ هَذَا الشَّيْءَ مَا هُوَ بِأَرْضِي عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَتُخْبِرَنِّي " . فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى : كَتَبَ إِلَيَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ ذَلِكَ . فَقَالَ عَلِيٌّ : " أَنَا أَبُو حَسَنٍ إِنْ لَمْ يَأْتِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ، فَلْيُعْطَ بِرُمَّتِهِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن مسیّب سے روایت ہے کہ شام والوں میں سے ایک شخص (ابن جبیری) نے اپنی عورت کے ساتھ ایک مرد کو پایا تو مار ڈالا اس مرد کو، یا مرد عورت دونوں کو۔ معاویہ بن ابی سفیان (جو حاکم تھے شام کے) ان کو اس کا فیصلہ دشوار ہوا، انہوں نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس مسئلہ کو پوچھو۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ واقعہ میرے ملک میں نہیں ہوا، میں تم کو قسم دیتا ہوں تم سچ بیان کرو کہاں یہ امر ہوا؟ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے معاویہ بن سفیان نے لکھا ہے کہ میں تم سے اس مسئلہ کو پوچھوں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ابوالحسن ہوں، اگر چار گواہ نہ لائے تو قتل پر راضی ہو جائے۔