کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: کوئی شخص کسی کا جانور یا کھانا وغیرہ تلف کر دے تو کیا حکم ہے
حدیث نمبر: 1429Q1
َالَ مَالِكٌ : الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنِ اسْتَهْلَكَ شَيْئًا مِنَ الْحَيَوَانِ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهِ، أَنَّ عَلَيْهِ قِيمَتَهُ يَوْمَ اسْتَهْلَكَهُ، لَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يُؤْخَذَ بِمِثْلِهِ مِنَ الْحَيَوَانِ، وَلَا يَكُونُ لَهُ أَنْ يُعْطِيَ صَاحِبَهُ، فِيمَا اسْتَهْلَكَ شَيْئًا مِنَ الْحَيَوَانِ، وَلَكِنْ عَلَيْهِ قِيمَتُهُ يَوْمَ اسْتَهْلَكَهُ، الْقِيمَةُ أَعْدَلُ ذَلِكَ فِيمَا بَيْنَهُمَا فِي الْحَيَوَانِ وَالْعُرُوضِ. ¤
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص مالک سے بن پوچھے اس کے جانور کو ہلاک کر دے تو اسے اس دن کی قیمت دینی ہوگی نہ کہ اس کے مانند اور جانور، اور اسی طرح مالک کو جانور کے بدلے میں ہمیشہ اسی دن کی قیمت دی جائے گی نہ کہ جانور، یہی حکم ہے اور اسباب کا۔
حدیث نمبر: 1429Q2
قَالَ مَالِكٌ : فِيمَنِ اسْتَهْلَكَ شَيْئًا مِنَ الطَّعَامِ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهِ فَإِنَّمَا يَرُدُّ عَلَى صَاحِبِهِ، مِثْلَ طَعَامِهِ بِمَكِيلَتِهِ مِنْ صِنْفِهِ، وَإِنَّمَا الطَّعَامُ بِمَنْزِلَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، إِنَّمَا يَرُدُّ مِنَ الذَّهَبِ الذَّهَبَ، وَمِنَ الْفِضَّةِ الْفِضَّةَ، وَلَيْسَ الْحَيَوَانُ بِمَنْزِلَةِ الذَّهَبِ فِي ذَلِكَ. فَرَقَ بَيْنَ ذَلِكَ السُّنَّةُ، وَالْعَمَلُ الْمَعْمُولُ بِهِ. ¤
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ البتہ اگر کسی کا اناج تلف کر دے تو اسی قسم کا اتنا ہی اناج دے دے، کیونکہ اناج چاندی سونے (جن کا مثل اور بدل ہوا کرتا ہے) کے مشابہ ہے، نہ کہ جانور کے۔
حدیث نمبر: 1429Q3
قَالَ مَالِكٌ : إِذَا اسْتُوْدِعَ الرَّجُلُ مَالًا فَابْتَاعَ بِهِ لِنَفْسِهِ وَرَبِحَ فِيهِ. فَإِنَّ ذَلِكَ الرِّبْحَ لَهُ، لِأَنَّهُ ضَامِنٌ لِلْمَالِ. حَتَّى يُؤَدِّيَهُ إِلَى صَاحِبِهِ.
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر امانت کے روپوں سے کچھ مال خریدا اور نفع کمایا تو وہ نفع اس شخص کا ہو جائے گا جس کے پاس روپے امانت تھے، مالک کو دینا ضروری نہیں، کیونکہ اس نے جب امانت میں تصرف کیا تو وہ اس کا ضامن ہوگیا۔