کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: ایک شخص مر جائے اور اس کا قرض لوگوں پر ہو جس کا ایک گواہ ہو ، اور لوگوں کا قرض اس پر ہو جس کا ایک گواہ ہو ، تو کس طرح فیصلہ کرنا چاہیے
حدیث نمبر: Q1422
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر ایک شخص مر جائے اور وہ لوگوں کا قرضدار ہو جس کا ایک گواہ ہو، اور اس کا بھی قرض ایک پر آتا ہو اس کا بھی ایک گواہ ہو، اور اس کے وارث قسم کھانے سے انکار کریں تو قرض خواہ قسم کھا کر اپنا قرضہ وصول کریں، اگر کچھ بچ رہے گا تو وہ وارثوں کو نہ ملے گا، کیونکہ انہوں نے قسم نہ کھا کر اپناحق آپ چھوڑ دیا، مگر جب وارث یہ کہیں کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ قرض میں سے کچھ بچ رہے گا اسی واسطے ہم نے قسم نہیں کھائی، اور حاکم کو معلوم ہو جائے کہ وارثوں نے اسی واسطے قسم نہ کھائی تھی تو اس صورت میں وارث قسم کھا کر جو کچھ مال بچ رہا ہے اس کو لے سکتے ہیں۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الأقضية / حدیث: Q1422
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح:7ق»