حدیث نمبر: 1403
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ " . قَالَ حَنْظَلَةُ : فَسَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقَالَ : أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِهِ
علامہ وحید الزماں
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا کھیتوں کے کرایہ پر دینے سے۔ حنظلہ نے کہا: میں نے رافع سے پوچھا، اگر سونے یا چاندی کے بدلے میں کرایہ کو دے؟ انہوں نے کہا: کچھ قباحت نہیں۔
حدیث نمبر: 1404
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ " كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقَالَ : لَا بَأْسَ بِهِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن مسیّب سے ابن شہاب نے پوچھا: زمین کو کرایہ پر دینا سونے یا چاندی کے بدلے میں درست ہے؟ کہا: ہاں کچھ قباحت نہیں۔
حدیث نمبر: 1405
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ " كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَقَالَ : لَا بَأْسَ بِهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَقُلْتُ لَهُ : أَرَأَيْتَ الْحَدِيثَ الَّذِي يُذْكَرُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ؟ فَقَالَ : أَكْثَرَ رَافِعٌ، وَلَوْ كَانَ لِي مَزْرَعَةٌ أَكْرَيْتُهَا
علامہ وحید الزماں
ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے پوچھا کہ کھیتوں کا کرایہ دینا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: کچھ قباحت نہیں سونے یا چاندی کے بدلے میں۔ ابن شہاب نے کہا: کیا تم کو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث نہیں پہنچی؟ سالم نے کہا: رافع نے زیادتی کی، اگر میرے پاس زمین مزروعہ ہوتی تو میں اس کو کرایہ پر دیتا۔
حدیث نمبر: 1406
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَكَارَى أَرْضًا، فَلَمْ تَزَلْ فِي يَدَيْهِ بِكِرَاءٍ حَتَّى مَاتَ، قَالَ ابْنُهُ : فَمَا كُنْتُ أُرَاهَا إِلَّا لَنَا مِنْ طُولِ مَا مَكَثَتْ فِي يَدَيْهِ، حَتَّى ذَكَرَهَا لَنَا عِنْدَ مَوْتِهِ " فَأَمَرَنَا بِقَضَاءِ شَيْءٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنْ كِرَائِهَا ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک زمین کرایہ کو لی، ہمیشہ ان کے پاس رہی مرتے دم تک، ان کے بیٹے نے کہا: ہم اس کو اپنی ملک سمجھتے تھے، اس وجہ سے کہ مدت تک ہمارے پاس رہی، جب سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ مرنے لگے تو انہوں نے کہا: وہ کرایہ کی ہے اور حکم کیا کرایہ ادا کرنے کا جو ان پر باقی تھا، سونے یا چاندی کی قسم سے۔
حدیث نمبر: 1407
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّهُ كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ " . وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ رَجُلٍ أَكْرَى مَزْرَعَتَهُ بِمِائَةِ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، أَوْ مِمَّا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنَ الْحِنْطَةِ أَوْ مِنْ غَيْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا ؟ فَكَرِهَ ذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن الزبیر اپنی زمین کو کرایہ پر دیتے تھے چاندی یا سونے کے بدلے میں۔
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا: کوئی شخص اپنی زمین کرایہ پر دے اس شرط سے کہ جب اس میں کھجور یا گیہوں یا اور کوئی چیز پیدا ہوگی تو اس قدر لوں گا، مثلاً سو صاع؟ امام مالک رحمہ اللہ نے اس کو مکروہ جانا۔
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا: کوئی شخص اپنی زمین کرایہ پر دے اس شرط سے کہ جب اس میں کھجور یا گیہوں یا اور کوئی چیز پیدا ہوگی تو اس قدر لوں گا، مثلاً سو صاع؟ امام مالک رحمہ اللہ نے اس کو مکروہ جانا۔