حدیث نمبر: 1384Q1
قَالَ مَالِكٌ : فِي الرَّجُلِ يَبِيعُ الْبَزَّ الْمُصَنَّفَ، وَيَسْتَثْنِي ثِيَابًا بِرُقُومِهَا، إِنَّهُ إِنِ اشْتَرَطَ أَنْ يَخْتَارَ مِنْ ذَلِكَ الرَّقْمَ، فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَإِنْ لَمْ يَشْتَرِطْ أَنْ يَخْتَارَ مِنْهُ حِينَ اسْتَثْنَى، فَإِنِّي أَرَاهُ شَرِيكًا فِي عَدَدِ الْبَزِّ الَّذِي اشْتُرِيَ مِنْهُ، وَذَلِكَ أَنَّ الثَّوْبَيْنِ يَكُونُ رَقْمُهُمَا سَوَاءً وَبَيْنَهُمَا تَفَاوُتٌ فِي الثَّمَنِ. ¤
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس شخص نے کئی قسم کا کپڑا بیچا اور چند رقم کے کپڑے مستثنیٰ کر لینے کی شرط کر لی، تو کچھ قباحت نہیں، اگر شرط نہیں کی تو وہ ان کپڑوں میں شریک ہو جائے گا۔ اس لیے کہ ایک رقم کے کپڑوں میں بھی کم وبیش ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 1384Q2
قَالَ مَالِكٌ : الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِالشِّرْكِ وَالتَّوْلِيَةِ وَالْإِقَالَةِ مِنْهُ فِي الطَّعَامِ وَغَيْرِهِ، قَبَضَ ذَلِكَ أَوْ لَمْ يَقْبِضْ، إِذَا كَانَ ذَلِكَ بِالنَّقْدِ، وَلَمْ يَكُنْ فِيهِ رِبْحٌ، وَلَا وَضِيعَةٌ، وَلَا تَأْخِيرٌ لِلثَّمَنِ، فَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ رِبْحٌ أَوْ وَضِيعَةٌ أَوْ تَأْخِيرٌ مِنْ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، صَارَ بَيْعًا يُحِلُّهُ مَا يُحِلُّ الْبَيْعَ، وَيُحَرِّمُهُ مَا يُحَرِّمُ الْبَيْعَ، وَلَيْسَ بِشِرْكٍ وَلَا تَوْلِيَةٍ وَلَا إِقَالَةٍ. ¤
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ شرکت اور تولیہ اور اقالہ کھانے کی چیزوں میں درست ہے، خواہ ان پر قبضہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، مگر یہ ضروری ہے کہ نقد ہو میعاد نہ ہو، اور کمی بیشی نہ ہو، اگر اس میں کمی بیشی ہوگی یا میعاد ہوگی تو یہ معاملے بیع سمجھے جائیں گے، شرکت اور تولیہ اور اقالہ نہ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 1384Q3
قَالَ مَالِكٌ : مَنِ اشْتَرَى سِلْعَةً بَزًّا أَوْ رَقِيقًا، فَبَتَّ بِهِ، ثُمَّ سَأَلَهُ رَجُلٌ أَنْ يُشَرِّكَهُ فَفَعَلَ، وَنَقَدَا الثَّمَنَ صَاحِبَ السِّلْعَةِ جَمِيعًا، ثُمَّ أَدْرَكَ السِّلْعَةَ شَيْءٌ يَنْتَزِعُهَا مِنْ أَيْدِيهِمَا، فَإِنَّ الْمُشَرَّكَ يَأْخُذُ مِنِ الَّذِي أَشْرَكَهُ الثَّمَنَ، وَيَطْلُبُ الَّذِي أَشْرَكَ بَيِّعَهُ الَّذِي بَاعَهُ السِّلْعَةَ بِالثَّمَنِ كُلِّهِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُشَرِّكُ عَلَى الَّذِي أَشْرَكَ بِحَضْرَةِ الْبَيْعِ، وَعِنْدَ مُبَايَعَةِ الْبَائِعِ الْأَوَّلِ، وَقَبْلَ أَنْ يَتَفَاوَتَ ذَلِكَ أَنَّ عُهْدَتَكَ عَلَى الَّذِي ابْتَعْتُ مِنْهُ، وَإِنْ تَفَاوَتَ ذَلِكَ، وَفَاتَ الْبَائِعَ الْأَوَّلَ فَشَرْطُ الْآخَرِ بَاطِلٌ وَعَلَيْهِ الْعُهْدَةُ. ¤
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے کوئی اسباب جیسے کپڑا یا غلام یا لونڈی خرید کیا، پھر ایک شخص نے اس سے کہا کہ مجھ کو بھی اس میں شریک کر لو، اس نے قبول کیا اور دونوں نے مل کر بائع کو قیمت ادا کردی، پھر وہ اسباب کسی اور کا نکلا، تو جو شخص شریک ہوا وہ اپنے دام پہلے مشتری سے لے لے گا۔ اور وہ بائع سے لے گا، مگر جس صورت میں مشتری نے خریدتے وقت بائع کے سامنے اس شریک سے کہہ دیا ہو کہ اگر بیع میں فتور نکلے تو اس کی جواب دہی بائع پر ہوگی، تو اس صورت میں وہ شریک اپنا نقصان بائع سے لے گا، اگر ایسا نہ ہو تو مشتری کی شرط کچھ کام نہ آئے گی، اور تاوان کا نقصان اسی پر ہوگا۔
حدیث نمبر: 1384Q4
قَالَ مَالِكٌ : فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِلرَّجُلِ : اشْتَرِ هَذِهِ السِّلْعَةَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، وَانْقُدْ عَنِّي وَأَنَا أَبِيعُهَا لَكَ، إِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ. حِينَ قَالَ : انْقُدْ عَنِّي وَأَنَا أَبِيعُهَا لَكَ. وَإِنَّمَا ذَلِكَ سَلَفٌ يُسْلِفُهُ إِيَّاهُ، عَلَى أَنْ يَبِيعَهَا لَهُ. وَلَوْ أَنَّ تِلْكَ السِّلْعَةَ هَلَكَتْ. أَوْ فَاتَتْ. أَخَذَ ذَلِكَ الرَّجُلُ الَّذِي نَقَدَ الثَّمَنَ. مِنْ شَرِيكِهِ مَا نَقَدَ عَنْهُ فَهَذَا مِنَ السَّلَفِ الَّذِي يَجُرُّ مَنْفَعَةً. قَالَ مَالِكٌ : وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ سِلْعَةً، فَوَجَبَتْ لَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَشْرِكْنِي بِنِصْفِ هَذِهِ السِّلْعَةِ، وَأَنَا أَبِيعُهَا لَكَ جَمِيعًا، كَانَ ذَلِكَ حَلَالًا لَا بَأْسَ بِهِ، وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنَّ هَذَا بَيْعٌ جَدِيدٌ. بَاعَهُ نِصْفَ السِّلْعَةِ، عَلَى أَنْ يَبِيعَ لَهُ النِّصْفَ الْآخَرَ.
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ زید نے عمرو سے یہ کہا: تو اس شئے کو خرید کر لے میرے اور اپنے ساجھے میں، میں بکوادوں گا، تو میری طرف سے بھی دام دے دے، تو یہ درست نہیں کیونکہ یہ سلف (قرض) ہے بکوا دینے کی شرط پر، اگر وہ شئے تلف ہو جائے تو عمرو زید سے اس کے حصّہ کے دام لے لے گا، البتہ اگر عمرو ایک شئے خرید کر چکا، پھر زید نے کہا: مجھے بھی اس میں شریک کر لے آدھے کو، میں بکوادوں گا تو یہ درست ہے۔
حدیث نمبر: 1384Q5