کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: بیع عینہ کا بیان اور کھانے کی چیزوں کو قبل قبضہ کے بیچنے کا بیان
حدیث نمبر: 1342
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص طعام خریدے پھر اس کو نہ بیچے جب تک اس پر قبضہ نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 1343
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اناج خریدے پھر اس کو نہ بیچے جب تک اس پر قبضہ نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 1344
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَبْتَاعُ الطَّعَامَ، فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اناج خریدتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ایک آدمی بھیجتے تھے، وہ ہم کو حکم کرتا تھا کہ غلہ اس جگہ سے اٹھا لے جائیں جہاں خریدا ہے قبل اس کے کہ ہم اس کو بیع کریں۔
حدیث نمبر: 1345
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ابْتَاعَ طَعَامًا أَمَرَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلنَّاسِ، فَبَاعَ حَكِيمٌ الطَّعَامَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ : " لَا تَبِعْ طَعَامًا ابْتَعْتَهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَهُ "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ حکیم بن حزام نے غلہ خریدا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو دلوایا تھا، پھر حکیم بن حزام نے اس غلہ کو بیچ ڈالا قبضہ سے پہلے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر پہنچی آپ رضی اللہ عنہ نے وہ غلہ حکیم بن حزام کو پھروا دیا، اور کہا: جس غلہ کو تو خریدے پھر اس کو مت بیچ جب تک اس پر قبضہ نہ کر لے۔
حدیث نمبر: 1346
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ صُكُوكًا خَرَجَتْ لِلنَّاسِ فِي زَمَانِ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ مِنْ طَعَامِ الْجَارِ، فَتَبَايَعَ النَّاسُ تِلْكَ الصُّكُوكَ بَيْنَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفُوهَا، فَدَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَقَالَا : " أَتُحِلُّ بَيْعَ الرِّبَا يَا مَرْوَانُ ؟ " فَقَالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ، وَمَا ذَاكَ ؟ فَقَالَا : " هَذِهِ الصُّكُوكُ تَبَايَعَهَا النَّاسُ ثُمَّ بَاعُوهَا قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفُوهَا " . فَبَعَثَ مَرْوَانُ الْحَرَسَ يَتْبَعُونَهَا يَنْزِعُونَهَا مِنْ أَيْدِي النَّاسِ وَيَرُدُّونَهَا إِلَى أَهْلِهَا
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ مروان بن حکم کے عہدِ حکومت میں لوگوں کو سندیں ملیں جار کے غلہ کی، لوگوں نے ان سندوں کو بیچا ایک دوسرے کے ہاتھ قبل اس بات کے کہ غلہ اپنے قبضہ میں لائیں، تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ایک اور صحابی (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) مروان کے پاس گئے اور کہا: کیا تو ربا کو درست جانتا ہے اے مروان؟ مروان نے کہا: معاذ اللہ! کیا کہتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ سندیں جن کو لوگوں نے خریدا، پھر خرید کر دوبارہ بیچا قبل غلہ لینے کے۔ مروان نے چوکیداروں کو بھیجا کہ وہ سندیں لوگوں سے چھین کر سند والوں کے حوالے کر دیں۔
حدیث نمبر: 1347
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَجُلًا أَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَ طَعَامًا مِنْ رَجُلٍ إِلَى أَجَلٍ، فَذَهَبَ بِهِ الرَّجُلُ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَبِيعَهُ الطَّعَامَ إِلَى السُّوقِ، فَجَعَلَ يُرِيهِ الصُّبَرَ، وَيَقُولُ لَهُ : مِنْ أَيِّهَا تُحِبُّ أَنْ أَبْتَاعَ لَكَ ؟ فَقَالَ الْمُبْتَاعُ : أَتَبِيعُنِي مَا لَيْسَ عِنْدَكَ ؟ فَأَتَيَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لِلْمُبْتَاعِ : " لَا تَبْتَعْ مِنْهُ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ "، وَقَالَ لِلْبَائِعِ : " لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ ایک شخص نے اناج خریدنا چاہا ایک شخص سے وعدے پر، تو بائع مشتری کو بازار میں لے گیا اور اس کو بورے دکھا کر کہنے لگا: کون سا غلہ میں تمہاری واسطے خرید کروں؟ مشتری نے کہا: کیا تو میرے ہاتھ اس چیز کو بیچتا ہے جو خود تیرے پاس نہیں ہے۔ پھر بائع اور مشتری دونوں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مشتری سے کہا: مت خریدو اس چیز کو جو بائع کے پاس نہیں ہے، اور بائع سے کہا مت بیچ اس چیز کو جو تیرے پاس نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1348
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَمِيلَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُؤَذِّنَ، يَقُولُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ : إِنِّي رَجُلٌ أَبْتَاعُ مِنَ الْأَرْزَاقِ الَّتِي تُعْطَى النَّاسُ بِالْجَارِ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أُرِيدُ أَنْ أَبِيعَ الطَّعَامَ الْمَضْمُونَ عَلَيَّ إِلَى أَجَلٍ . فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ : " أَتُرِيدُ أَنْ تُوَفِّيَهُمْ مِنْ تِلْكَ الْأَرْزَاقِ الَّتِي ابْتَعْتَ ؟ " فَقَالَ : نَعَمْ . فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ .
علامہ وحید الزماں
حضرت جمیل بن عبدالرحمٰن نے سعید بن مسیّب سے کہا: میں ان غلوں کو جو سرکار کی طرف سے لوگوں کو مقرر ہیں جار میں خرید کرتا ہوں، پھر میں چاہتا ہوں کہ غلہ کو میعاد لگا کر لوگوں کے ہاتھ بیچوں۔ سعید نے کہا: تو چاہتا ہے ان لوگوں کو اسی غلہ میں سے ادا کرے جو تو نے خریدا ہے۔ جمیل نے کہا: ہاں۔ سعید بن مسیّب نے اس سے منع کیا۔
حدیث نمبر: 1348B1
قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ أَنَّهُ مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا بُرًّا أَوْ شَعِيرًا أَوْ سُلْتًا أَوْ ذُرَةً أَوْ دُخْنًا أَوْ شَيْئًا مِنَ الْحُبُوبِ الْقِطْنِيَّةِ، أَوْ شَيْئًا مِمَّا يُشْبِهُ الْقِطْنِيَّةَ مِمَّا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ، أَوْ شَيْئًا مِنَ الْأُدُمِ كُلِّهَا الزَّيْتِ وَالسَّمْنِ وَالْعَسَلِ وَالْخَلِّ وَالْجُبْنِ وَالشِّبرِقِ وَاللَّبَنِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الْأُدْمِ، فَإِنَّ الْمُبْتَاعَ لَا يَبِيعُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ حَتَّى يَقْبِضَهُ وَيَسْتَوْفِيَهُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے، جو شخص اناج خرید کرے جیسے گیہوں، جو، جوار، باجرہ اور دالیں وغیرہ جن میں زکوة واجب ہوتی ہے، یا روٹی کے ساتھ کھانے کی چیزیں جیسے زیتون کا تیل، یا گھی، یا شہد، یا سرکہ، یا پنیر، یا دودھ، یا تل کا تیل، اور جو اس کے مشابہ ہیں تو ان میں سے کوئی چیز نہ بیچے جب تک ان پر قبضہ نہ کر لے۔