کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک
حدیث نمبر: 1329
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعْدَيْنِ أَنْ يَبِيعَا آنِيَةً مِنَ الْمَغَانِمِ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ، فَبَاعَا كُلَّ ثَلَاثَةٍ بِأَرْبَعَةٍ عَيْنًا أَوْ كُلَّ أَرْبَعَةٍ بِثَلَاثَةٍ عَيْنًا . فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَيْتُمَا فَرُدَّا "
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حکم کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں سعد کو کہ جتنے برتن سونے اور چاندی کے مالِ غنیمت میں آئے ہیں، ان کو بیچ ڈالو۔ انہوں نے تین تین برتنوں کو چار چار نقد کے عوض بیچا، یا چار چار کو تین تین نقد کے عوض میں بیچا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں نے سود کیا، اس بیع کو رد کرو۔“
حدیث نمبر: 1330
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي تَمِيمٍ ، عَنْ أَبِي الْحُبَاب سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دینار کو ایک دینار کے بدلے میں بیچو اور ایک درہم کو ایک درہم کے بدلے میں، نہ زیادہ کے بدلے میں۔“
حدیث نمبر: 1331
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا شَيْئًا غَائِبًا بِنَاجِزٍ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت بیچو سونے کے بدلے میں سونا مگر برابر برابر، نہ زیادہ کرو ایک دوسرے پر، اور مت بیچو چاندی کے بدلے میں چاندی کے مگر برابر، نہ زیادہ کرو ایک دوسرے پر، نہ بیچو کچھ اس میں سے نقد وعدہ پر۔“
حدیث نمبر: 1332
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَجَاءَهُ صَائِغٌ، فَقَالَ لَهُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي أَصُوغُ الذَّهَبَ ثُمَّ أَبِيعُ الشَّيْءَ مِنْ ذَلِكَ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهِ فَأَسْتَفْضِلُ مِنْ ذَلِكَ قَدْرَ عَمَلِ يَدِي، فَنَهَاهُ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ، فَجَعَلَ الصَّائِغُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ يَنْهَاهُ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَاب الْمَسْجِدِ أَوْ إِلَى دَابَّةٍ يُرِيدُ أَنْ يَرْكَبَهَا، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا، هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا إِلَيْنَا وَعَهْدُنَا إِلَيْكُمْ "
علامہ وحید الزماں
مجاہد سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا اتنے میں ایک سنار آیا اور بولا: اے ابوعبدالرحمٰن! میں سونے کا زیور بناتا ہوں، پھر اس کے وزن سے زیادہ دینار لے کر اس کو بیچتا ہوں، اور یہ زیادتی اپنی محنت کے عوض میں لیتا ہوں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما منع کرتے رہے یہاں تک کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسجد کے دروازے پر آئے، یا اپنے جانور پر سوار ہونے کو آئے، اس وقت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: دینار کو بدلے میں دینار کے اور درہم کو بدلے میں درہم کے بیچ، اور زیادتی نہ لے یہی وصیت ہے۔
حدیث نمبر: 1333
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ جَدِّهِ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ، وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت بیچو ایک دینار کو دو دینار کے بدلے میں، نہ ایک درہم کو دو درہم کے بدلے میں۔“
حدیث نمبر: 1334
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ " . فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : مَا أَرَى بِمِثْلِ هَذَا بَأْسًا . فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ مُعَاوِيَةَ، أَنَا أُخْبِرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُخْبِرُنِي عَنْ رَأْيِهِ : لَا أُسَاكِنُكَ بِأَرْضٍ أَنْتَ بِهَا . ثُمَّ ثُمَّ قَدِمَ أَبُو الدَّرْدَاءِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى مُعَاوِيَةَ : " أَنْ لَا تَبِيعَ ذَلِكَ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ایک برتن پانی پینے کا سونے یا چاندی کا اس کے وزن سے زیادہ سونے یا چاندی کے بدلے میں بیچا، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع کرتے تھے، مگر برابر برابر بیچنا درست رکھتے تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے نزدیک کچھ قباحت نہیں ہے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: بھلا کون میرا عذر قبول کرے گا اگر میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس کا بدلہ دوں، میں تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں، اور وہ مجھ سے اپنی رائے بیان کرتے ہیں، اب میں تمہارے ملک میں نہ رہوں گا۔ پھر سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ مدینہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے یہ قصہ بیان کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ پھر ایسی بیع نہ کریں، مگر برابر تول کر۔
حدیث نمبر: 1335
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالذَّهَبِ أَحَدُهُمَا غَائِبٌ وَالْآخَرُ نَاجِزٌ، وَإِنِ اسْتَنْظَرَكَ إِلَى أَنْ يَلِجَ بَيْتَهُ فَلَا تُنْظِرْهُ، إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرَّمَاءَ " . وَالرَّمَاءُ هُوَ الرِّبَا
علامہ وحید الزماں
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مت بیچو سونے کو بدلے میں سونے کے مگر برابر برابر، نہ زیادہ کرو ایک کو دوسرے پر، اور نہ بیچو چاندی کے بدلے میں چاندی کے مگر برابر برابر، نہ زیادہ کرو ایک کو دوسرے پر، اور نہ بیچو چاندی کو بدلے میں سونے کے اس طرح پر کہ ایک نقد ہو اور دوسرا وعدے پر، بلکہ تجھ سے اگر اتنی مہلت چاہے کہ اپنے گھر میں سے ہو کر آئے، تو اتنی بھی اجازت مت دے، میں خوف کرتا ہوں تمہارے اوپر سود کا۔
حدیث نمبر: 1336
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ، وَإِنِ اسْتَنْظَرَكَ إِلَى أَنْ يَلِجَ بَيْتَهُ فَلَا تُنْظِرْهُ، إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرَّمَاءَ " . وَالرَّمَاءُ هُوَ الرِّبَا
علامہ وحید الزماں
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مت بیچو سونے کو بدلے میں سونے کے مگر برابر برابر، نہ زیادہ کرو ایک کو دوسرے پر، اور نہ بیچو چاندی کو بدلے میں چاندی کے مگر برابر برابر، نہ زیادہ کرو ایک کو دوسرے پر، اور نہ بیچو چاندی کو بدلے میں سونے کے اس طرح پر کہ ایک نقد ہو دوسرا وعدہ پر، بلکہ تجھ سے اگر اتنی مہلت چاہے کہ اپنے گھر میں سے ہو کر آئے تو اتنی بھی اجازت مت دے، میں خوف کرتا ہوں تمہارے اوپر سود کا۔
حدیث نمبر: 1337
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، وَالصَّاعُ بِالصَّاعِ، وَلَا يُبَاعُ كَالِئٌ بِنَاجِزٍ "
علامہ وحید الزماں
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دینار بدلے میں ایک دینار کے چاہیے، ایک درہم بدلے میں ایک درہم کے، اور ایک صاع بدلے میں ایک صاع کے، اور نہ بیچا جائے نقد بدلے میں وعدے کے۔
حدیث نمبر: 1338
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ : " لَا رِبًا إِلَّا فِي ذَهَبٍ أَوْ فِي فِضَّةٍ أَوْ مَا يُكَالُ أَوْ يُوزَنُ بِمَا يُؤْكَلُ أَوْ يُشْرَبُ "
علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن مسیّب کہتے تھے: نہیں ربا ہے مگر سونے میں یا چاندی میں، یا جو چیز ناپ تول کر بکتی ہے کھانے پینے کی۔
حدیث نمبر: 1339
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ : " قَطْعُ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ مِنَ الْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ " .
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سعید بن مسیّب کہتے تھے: روپیہ اشرفی کا کاٹنا گویا ملک میں فساد کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 1339B1
قَالَ مَالِك : وَلَا بَأْسَ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ، وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ جِزَافًا إِذَا كَانَ تِبْرًا أَوْ حَلْيًا قَدْ صِيغَ، فَأَمَّا الدَّرَاهِمُ الْمَعْدُودَةُ وَالدَّنَانِيرُ الْمَعْدُودَةُ فَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَشْتَرِيَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ جِزَافًا حَتَّى يُعْلَمَ وَيُعَدَّ، فَإِنِ اشْتُرِيَ ذَلِكَ جِزَافًا فَإِنَّمَا يُرَادُ بِهِ الْغَرَرُ حِينَ يُتْرَكُ عَدُّهُ وَيُشْتَرَى جِزَافًا، وَلَيْسَ هَذَا مِنْ بُيُوعِ الْمُسْلِمِينَ، فَأَمَّا مَا كَانَ يُوزَنُ مِنَ التِّبْرِ وَالْحَلْيِ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يُبَاعَ ذَلِكَ جِزَافًا، وَإِنَّمَا ابْتِيَاعُ ذَلِكَ جِزَافًا كَهَيْئَةِ الْحِنْطَةِ وَالتَّمْرِ وَنَحْوِهِمَا مِنَ الْأَطْعِمَةِ الَّتِي تُبَاعُ جِزَافًا وَمِثْلُهَا يُكَالُ، فَلَيْسَ بِابْتِيَاعِ ذَلِكَ جِزَافًا بَأْسٌ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر سونے کو چاندی کے بدلے میں یا چاندی کو سونے کے بدلے میں ڈھیر لگا کر خریدے تو کچھ قباحت نہیں ہے، جب وہ ڈلی ہوں یا زیور ہوں، لیکن روپے اشرفی کا خریدنا بغیر گنے ہوئے جائز نہیں، بلکہ اس میں دھوکا ہے، اور مسلمانوں کے دستور کے خلاف ہے، لیکن سونے چاندی کا ڈلا یا زیور جو تل کے بکتا ہے اس کو اٹکل سے خریدنا، جیسے گیہوں یا کھجور وغیرہ کو خریدتے ہیں برا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1339B2
قَالَ مَالِك : مَنِ اشْتَرَى مُصْحَفًا أَوْ سَيْفًا أَوْ خَاتَمًا وَفِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ ذَهَبٌ أَوْ فِضَّةٌ بِدَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ، فَإِنَّ مَا اشْتُرِيَ مِنْ ذَلِكَ وَفِيهِ الذَّهَبُ بِدَنَانِيرَ فَإِنَّهُ يُنْظَرُ إِلَى قِيمَتِهِ، فَإِنْ كَانَتْ قِيمَةُ ذَلِكَ الثُّلُثَيْنِ وَقِيمَةُ مَا فِيهِ مِنَ الذَّهَبِ الثُّلُثَ، فَذَلِكَ جَائِزٌ لَا بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ يَدًا بِيَدٍ وَلَا يَكُونُ فِيهِ تَأْخِيرٌ، وَمَا اشْتُرِيَ مِنْ ذَلِكَ بِالْوَرِقِ مِمَّا فِيهِ الْوَرِقُ نُظِرَ إِلَى قِيمَتِهِ، فَإِنْ كَانَ قِيمَةُ ذَلِكَ الثُّلُثَيْنِ وَقِيمَةُ مَا فِيهِ مِنَ الْوَرِقِ الثُّلُثَ، فَذَلِكَ جَائِزٌ لَا بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ يَدًا بِيَدٍ، وَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ عِنْدَنَا
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص کلام مجید یا تلوار یا انگوٹھی جس میں سونا یا چاندی لگا ہو روپے اشرفی کے بدلے میں خرید کرے، تو دیکھیں گے اگر ان چیزوں میں سونا لگا ہوا ہے اور اشرفیوں کے بدلے میں اس کو خرید کیا، اور اس چیز کی قیمت دو تہائی سے کم نہیں ہے، اور جس قدر سونا اس میں لگا ہوا ہے اس کی قیمت ایک تہائی سے زیادہ نہیں ہے، تو درست ہے جب نقداً نقد ہو، اسی طرح اگر چاندی لگی ہوئی ہے اور روپیوں کے بدلے میں خرید کیا تب بھی یہی حکم ہے۔