کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: مکاتب جب آزاد ہو جائے تو اس کی ولاء کا بیان
حدیث نمبر: 1300Q4
قَالَ مَالِكٌ : إِنَّ الْمُكَاتَبَ إِذَا أَعْتَقَ عَبْدَهُ إِنَّ ذَلِكَ غَيْرُ جَائِزٍ لَهُ. إِلَّا بِإِذْنِ سَيِّدِهِ فَإِنْ أَجَازَ ذَلِكَ سَيِّدُهُ لَهُ ثُمَّ عَتَقَ الْمُكَاتَبُ كَانَ وَلَاؤُهُ لِلْمُكَاتَبِ. وَإِنْ مَاتَ الْمُكَاتَبُ قَبْلَ أَنْ يُعْتَقَ كَانَ وَلَاءُ الْمُعْتَقِ لِسَيِّدِ الْمُكَاتَبِ وَإِنْ مَاتَ الْمُعْتَقُ قَبْلَ أَنْ يُعْتَقَ الْمُكَاتَبُ وَرِثَهُ سَيِّدُ الْمُكَاتَبِ¤
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مکاتب نے بھی اپنے غلام کو مکاتب کیا، پھر مکاتب کا مکاتب، مکاتب سے پہلے آزاد ہو گیا، تو اس کی ولاء مکاتب کے مولیٰ کو ملے گی جب تک مکاتب آزاد نہ ہو، جب مکاتب آزاد ہو جائے گا اس کے مکاتب کی ولاء اس کی طرف لوٹ آئے گی۔ اگر مکاتب بدل کتابت ادا کرنے سے پہلے مر گیا یا عاجز ہو گیا تو اس کی آزاد اولاد اپنے باپ کے مکاتب کی ولاء نہ پائیں گے، کیونکہ ان کے باپ کو ولاء کا استحقاق نہیں ہوا تھا، اس واسطے کہ وہ آزاد نہیں ہوا تھا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب المكاتب / حدیث: 1300Q4
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 12»
حدیث نمبر: 1300Q5
قَالَ مَالِكٌ : وَكَذَلِكَ أَيْضًا لَوْ كَاتَبَ الْمُكَاتَبُ عَبْدًا فَعَتَقَ الْمُكَاتَبُ الْآخَرُ قَبْلَ سَيِّدِهِ الَّذِي كَاتَبَهُ فَإِنَّ وَلَاءَهُ لِسَيِّدِ الْمُكَاتَبِ مَا لَمْ يَعْتِقِ الْمُكَاتَبُ الْأَوَّلُ الَّذِي كَاتَبَهُ. فَإِنْ عَتَقَ الَّذِي كَاتَبَهُ رَجَعَ إِلَيْهِ وَلَاءُ مُكَاتَبِهِ الَّذِي كَانَ عَتَقَ قَبْلَهُ. وَإِنْ مَاتَ الْمُكَاتَبُ الْأَوَّلُ قَبْلَ أَنْ يُؤَدِّيَ أَوْ عَجَزَ عَنْ كِتَابَتِهِ وَلَهُ وَلَدٌ أَحْرَارٌ لَمْ يَرِثُوا وَلَاءَ مُكَاتَبِ أَبِيهِمْ لِأَنَّهُ لَمْ يَثْبُتْ لِأَبِيهِمُ الْوَلَاءُ. وَلَا يَكُونُ لَهُ الْوَلَاءُ حَتَّى يَعْتِقَ. ¤
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو مکاتب دو آدمیوں میں مشترک ہو، پھر ایک شخص اپنا حق معاف کر دے اور دوسرا نہ کرے، پھر مکاتب مر جائے اور مال چھوڑ جائے، تو جس شخص نے معاف نہیں کیا وہ اپنا حق وصول کر کے جس قدر مال بچے گا وہ دونوں تقسیم کر لیں گے جیسے وہ غلامی کی حالت میں مرتا، کیونکہ جس شخص نے اپنا حق چھوڑ دیا اس نے آزاد نہیں کیا، بلکہ اپنا حق معاف کر دیا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب المكاتب / حدیث: 1300Q5
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 12»
حدیث نمبر: 1300Q6
قَالَ مَالِكٌ فِي الْمُكَاتَبِ يَكُونُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيَتْرُكُ أَحَدُهُمَا لِلْمُكَاتَبِ الَّذِي لَهُ عَلَيْهِ وَيَشِحُّ الْآخَرُ ثُمَّ يَمُوتُ الْمُكَاتَبُ وَيَتْرُكُ مَالًا. قَالَ مَالِكٌ : يَقْضِي الَّذِي لَمْ يَتْرُكْ لَهُ شَيْئًا مَا بَقِيَ لَهُ عَلَيْهِ. ثُمَّ يَقْتَسِمَانِ الْمَالَ كَهَيْئَتِهِ لَوْ مَاتَ عَبْدًا لِأَنَّ الَّذِي صَنَعَ لَيْسَ بِعَتَاقَةٍ. وَإِنَّمَا تَرَكَ مَا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ. ¤
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب المكاتب / حدیث: 1300Q6
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 12»
حدیث نمبر: 1300Q7
قَالَ مَالِكٌ وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ : أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ وَتَرَكَ مُكَاتَبًا وَتَرَكَ بَنِينَ رِجَالًا وَنِسَاءً. ثُمَّ أَعْتَقَ أَحَدُ الْبَنِينَ نَصِيبَهُ مِنَ الْمُكَاتَبِ إِنَّ ذَلِكَ لَا يُثْبِتُ لَهُ مِنَ الْوَلَاءِ شَيْئًا وَلَوْ كَانَتْ عَتَاقَةً لَثَبَتَ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ مِنْهُمْ مِنْ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ. ¤
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی دلیل یہ ہے: ایک شخص مر گیا اور ایک مکاتب چھوڑ گیا اور بیٹے اور بیٹیاں بھی چھوڑ گیا، پھر ایک بیٹی نے اپنا حصّہ آزاد کر دیا تو ولاء اس کے واسطے ثابت نہ ہوگی، اگر یہ آزادی ہوتی تو ولاء اس کے لیے ضروری ثابت ہوتی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب المكاتب / حدیث: 1300Q7
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 12»
حدیث نمبر: 1300Q8
قَالَ مَالِكٌ : وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ أَيْضًا أَنَّهُمْ إِذَا أَعْتَقَ أَحَدُهُمْ نَصِيبَهُ ثُمَّ عَجَزَ الْمُكَاتَبُ لَمْ يُقَوَّمْ عَلَى الَّذِي أَعْتَقَ نَصِيبَهُ مَا بَقِيَ مِنَ الْمُكَاتَبِ وَلَوْ كَانَتْ عَتَاقَةً قُوِّمَ عَلَيْهِ حَتَّى يَعْتِقَ فِي مَالِهِ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ. فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ.“ ¤
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ بھی اس کی دلیل ہے کہ اگر ایک شخص نے اپنا حصّہ آزاد کر دیا پھر مکاتب آزاد ہو گیا، تو جس شخص نے آزاد کیا ہے اس کو باقی حصّوں کی قیمت نہ دینا ہوگی، اگر یہ آزادی ہوتی تو اس کو اوروں کے حصّے کی قیمت بموجب حدیث سے دینا پڑتی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب المكاتب / حدیث: 1300Q8
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 13»
حدیث نمبر: 1300Q9
قَالَ مَالِكٌ : وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ أَيْضًا أَنَّ مِنْ سُنَّةِ الْمُسْلِمِينَ الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا. أَنَّ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مُكَاتَبٍ لَمْ يُعْتَقْ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ وَلَوْ عَتَقَ عَلَيْهِ. كَانَ الْوَلَاءُ لَهُ دُونَ شُرَكَائِهِ. ¤
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کا طریقہ جس میں کچھ اختلاف نہیں یہ ہے کہ جو شخص ایک حصّہ مکاتب میں سے آزاد کر دے تو وہ اس کے مال سے آزاد نہ ہوگا، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ولاء اس کو ملتی، اس کے شریکوں کو نہ ملتی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب المكاتب / حدیث: 1300Q9
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 13»
حدیث نمبر: 1300Q10
قَالَ مَالِكٌ : وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ أَيْضًا أَنَّ مِنْ سُنَّةِ الْمُسْلِمِينَ أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ عَقَدَ الْكِتَابَةَ. وَأَنَّهُ لَيْسَ لِمَنْ وَرِثَ سَيِّدَ الْمُكَاتَبِ مِنَ النِّسَاءِ مِنْ وَلَاءِ الْمُكَاتَبِ. وَإِنْ أَعْتَقْنَ نَصِيبَهُنَّ شَيْءٌ إِنَّمَا وَلَاؤُهُ لِوَلَدِ سَيِّدِ الْمُكَاتَبِ الذُّكُورِ أَوْ عَصَبَتِهِ مِنَ الرِّجَالِ.
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کا طریقہ یہ بھی ہے کہ جو شخص عقد کتابت کرے ولاء اسی کو ملے گی، اور مکاتب کے مولیٰ کے وارثوں میں سے عورتوں کو ولاء نہ ملے گی، اگرچہ وہ اپنا حصّہ کچھ آزاد کردیں، بلکہ ولاء مکاتب کے مولیٰ کے لڑکوں کو یا اور عصبوں کو ملے گی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب المكاتب / حدیث: 1300Q10
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 14»