حدیث نمبر: 1279
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ أُمَّهُ أَرَادَتْ أَنْ تُوصِيَ، ثُمَّ أَخَّرَتْ ذَلِكَ إِلَى أَنْ تُصْبِحَ، فَهَلَكَتْ، وَقَدْ كَانَتْ هَمَّتْ بِأَنْ تُعْتِقَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ : أَيَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا ؟ فَقَالَ الْقَاسِمُ : إِنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ 0قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ أُمِّي هَلَكَتْ، فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کی ماں نے وصیت کرنے کا ارادہ کیا، پھر صبح تک دیر کی، رات کو مر گئیں، اور ان کا قصد بردہ آزاد کرنے کا تھا۔ عبدالرحمٰن نے کہا: میں نے قاسم بن محمد سے پوچھا: اگر میں اپنی ماں کی طرف سے آزاد کر دوں تو ان کو کچھ فائدہ ہوگا؟ قاسم نے کہا: سعد بن عبادہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میری ماں مر گئی اگر میں اس کی طرف سے آزاد کر دوں کیا اس کو فائدہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 1280
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي نَوْمٍ نَامَهُ، فَأَعْتَقَتْ عَنْهُ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِقَابًا كَثِيرَةً " . قَالَ مَالِك : وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید نے کہا: عبدالرحمٰن بن ابوبکر سوتے سوتے مر گئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی طرف سے بہت سے بردے آزاد کیے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھے یہ روایت بہت پسند ہے اس باب میں۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھے یہ روایت بہت پسند ہے اس باب میں۔