کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: جب غلام آزاد ہو جائے اس کا مال کون لے
حدیث نمبر: 1271
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ : مَضَتِ السُّنَّةُ أَنَّ " الْعَبْدَ إِذَا أُعْتِقَ، تَبِعَهُ مَالُهُ " .
علامہ وحید الزماں
ابن شہاب کہتے تھے کہ سنت جاری ہے اس بات پر جب غلام آزاد ہو جائے اس کا مال اسی کو ملے گا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العتق والولاء / حدیث: 1271
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 14613، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 21945، فواد عبدالباقي نمبر: 38 - كِتَابُ الْعِتْقِ وَالْوَلَاءِ-ح: 5»
حدیث نمبر: 1271B1
قَالَ مَالِك : وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ، أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا عَتِقَ تَبِعَهُ مَالُهُ، أَنَّ الْمُكَاتَبَ إِذَا كُوتِبَ تَبِعَهُ مَالُهُ، وَإِنْ لَمْ يَشْتَرِطْهُ الْمُكَاتِبُ، وَذَلِكَ أَنَّ عَقْدَ الْكِتَابَةِ هُوَ عَقْدُ الْوَلَاءِ إِذَا تَمَّ ذَلِكَ، وَلَيْسَ مَالُ الْعَبْدِ وَالْمُكَاتَبِ بِمَنْزِلَةِ مَا كَانَ لَهُمَا مِنْ وَلَدٍ، إِنَّمَا أَوْلَادُهُمَا بِمَنْزِلَةِ رِقَابِهِمَا لَيْسُوا بِمَنْزِلَةِ أَمْوَالِهِمَا، لِأَنَّ السُّنَّةَ الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا عَتَقَ تَبِعَهُ مَالُهُ وَلَمْ يَتْبَعْهُ وَلَدُهُ، وَأَنَّ الْمُكَاتَبَ إِذَا كُوتِبَ تَبِعَهُ مَالُهُ وَلَمْ يَتْبَعْهُ وَلَدُهُ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ غلام جب مکاتب کیا جائے تو جو مال اس کے پاس ہو وہ غلام کا ہی رہے گا، اور اولاد میں یہ حکم نہیں ہو سکتا، غلام کی جو اولاد آزاد یا مکاتب کرتے وقت ہوگی، وہ مولیٰ کو ملے گی۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اس کی دلیل یہ ہے کہ غلام اور مکاتب جب مفلس ہوجائیں تو ان کے مال اور اُم ولد لے لیں گے، مگر اولاد کو نہ لیں گے، کیونکہ اولاد غلام کا مال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العتق والولاء / حدیث: 1271B1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 38 - كِتَابُ الْعِتْقِ وَالْوَلَاءِ-ح: 5»
حدیث نمبر: 1271B2
. قَالَ مَالِك : وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ أَيْضًا، أَنَّ الْعَبْدَ وَالْمُكَاتَبَ إِذَا أَفْلَسَا أُخِذَتْ أَمْوَالُهُمَا وَأُمَّهَاتُ أَوْلَادِهِمَا وَلَمْ تُؤْخَذْ أَوْلَادُهُمَا، لِأَنَّهُمْ لَيْسُوا بِأَمْوَالٍ لَهُمَا . قَالَ مَالِك : وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ أَيْضًا، أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا بِيعَ وَاشْتَرَطَ الَّذِي ابْتَاعَهُ مَالَهُ لَمْ يَدْخُلْ وَلَدُهُ فِي مَالِهِ .
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ غلام جب بیچا جائے اور خریدار اس کے مال لینے کی شرط کرے تو اولاد اس میں داخل نہ ہو گی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العتق والولاء / حدیث: 1271B2
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 38 - كِتَابُ الْعِتْقِ وَالْوَلَاءِ-ح: 5»
حدیث نمبر: 1271B3
قَالَ مَالِك : وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ أَيْضًا، أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا جَرَحَ أُخِذَ هُوَ وَمَالُهُ وَلَمْ يُؤْخَذْ وَلَدُهُ
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: غلام اگر کسی کو زخمی کرے تو اس دیت میں وہ خود اور مال اس کا گرفت کیا جائے گا، مگر اس کی اولاد سے مواخذہ نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العتق والولاء / حدیث: 1271B3
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 38 - كِتَابُ الْعِتْقِ وَالْوَلَاءِ-ح: 5»