کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: جو شخص اپنی عورت سے جماع نہ کر سکے اس کو مہلت دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1213
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَمَسَّهَا، فَإِنَّهُ يُضْرَبُ لَهُ أَجَلٌ سَنَةً، فَإِنْ مَسَّهَا، وَإِلَّا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا "
علامہ وحید الزماں
سعید بن مسیّب کہتے تھے: جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے، پھر اس سے جماع نہ کر سکے، اس کو ایک برس کی مہلت دی جائے، اس عرصہ میں اگر جماع کرے گا تو بہتر، نہیں تو تفریق کر دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 1214
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ، مَتَى يُضْرَبُ لَهُ الْأَجَلُ، أَمِنْ يَوْمِ يَبْنِي بِهَا، أَمْ مِنْ يَوْمِ تُرَافِعُهُ إِلَى السُّلْطَانِ ؟ فَقَالَ : " بَلْ مِنْ يَوْمِ تُرَافِعُهُ إِلَى السُّلْطَانِ " . قَالَ مَالِكٌ : فَأَمَّا الَّذِي قَدْ مَسَّ امْرَأَتَهُ، ثُمَّ اعْتَرَضَ عَنْهَا، فَإِنِّي لَمْ أَسْمَعْ أَنَّهُ يُضْرَبُ لَهُ أَجَلٌ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے پوچھا کہ کب سے ایک برس کی مہلت دی جائے گی؟ جس روز سے خلوت ہوئی؟ یا جس روز سے مقدمہ پیش ہوا حکم کے سامنے؟ انہوں نے کہا: جس روز مقدمہ پیش ہوا اس روز سے دعوت دی جائے گی۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی عورت سے جماع کرچکا، پھر کسی وجہ سے عاجز ہو گیا اس کو مہلت دینے کی ضرورت نہیں، نہ تفریق ہوگی۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی عورت سے جماع کرچکا، پھر کسی وجہ سے عاجز ہو گیا اس کو مہلت دینے کی ضرورت نہیں، نہ تفریق ہوگی۔