کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: حَکَمین کے بیان میں
حدیث نمبر: 1210
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ فِي الْحَكَمَيْنِ اللَّذَيْنِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا سورة النساء آية 35 : " إِنَّ إِلَيْهِمَا الْفُرْقَةَ بَيْنَهُمَا وَالْاجْتِمَاعَ " . قَالَ مَالِكٌ : وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْحَكَمَيْنِ يَجُوزُ قَوْلُهُمَا بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ فِي الْفُرْقَةِ وَالْاجْتِمَاعِ
علامہ وحید الزماں
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ جل جلالہُ نے جو فرمایا: ”اگر تم کو خاوند اور جورو کی آپس میں لڑائی کا خوف ہو تو ایک حکم (پنچ) خاوند والوں میں سے مقرر کرو اور ایک حکم (پنچ) جورو والوں میں سے، اگر وہ بھلائی چاہیں گے تو اللہ اس کی توفیق دے گا، بے شک اللہ جانتا خبردار ہے۔“ ان حکموں کو اختیار ہے کہ خاوند اور جورو میں تفریق کر دیں یا ملاپ کر دیں۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اہلِ علم سے میں نے یہ اچھا سنا کہ حکموں کا قول تفریق اور ملاپ میں معتبر اور نافذ ہے۔ خواہ خاوند اور جورو کے اذن سے حکم ہوئے ہوں یا بلا اذن، اور بعضوں کے نزدیک ملاپ میں ان کا قول نافذ ہے۔ تفریق بغیر خاوند کے طلاق دی ہوئی نہیں ہو سکتی، البتہ اگر خاوند نے حکم کو طلاق کا اختیار دے دیا ہو تو طلاق نافذ ہو جائے گی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطلاق / حدیث: 1210
درجۂ حدیث محدثین: موقوف ضعيف
تخریج حدیث «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 14782، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11883، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 72»