حدیث نمبر: 1190
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : أَيُّمَا امْرَأَةٍ فَقَدَتْ زَوْجَهَا فَلَمْ تَدْرِ أَيْنَ هُوَ؟ فَإِنَّهَا تَنْتَظِرُ أَرْبَعَ سِنِينَ، ثُمَّ تَعْتَدُّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تَحِلُّ. ¤ قَالَ
علامہ وحید الزماں
سعید بن مسیّب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: جس عورت کا خاوند گم ہو جائے اور اس کا پتہ معلوم نہ ہو کہاں ہے، تو جس روز سے اس کی خبر بند ہوئی ہے چار برس تک عورت انتظار کرے، چار برس کے بعد چار مہینے دس دن عدت کر کے اگر چاہے تو دوسرا نکاح کرے۔
حدیث نمبر: 1190B1
قَالَ مَالِكٌ : وَإِنْ تَزَوَّجَتْ بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا، فَدَخَلَ بِهَا زَوْجُهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا، فَلَا سَبِيلَ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ إِلَيْهَا. وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا. ¤
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر عورت کی عدت گزر گئی اور اس نے دوسرا نکاح کر لیا تو پھر پہلے خاوند کو اختیار نہ رہے گا۔ خواہ دوسرے خاوند نے اس سے صحبت کی ہو یا نہ کی ہو۔
حدیث نمبر: 1190B2
قَالَ مَالِكٌ : وَإِنْ أَدْرَكَهَا زَوْجُهَا، قَبْلَ أَنْ تَتَزَوَّجَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا۔
علامہ وحید الزماں
ہمارے نزدیک بھی یہی حکم ہے۔
امام مالک نے فرمایا کہ اگر عورت کی عدت کے اندر پہلا خاوند آ گیا تو وہ اپنی بی بی کا حقدار ہو گا۔
امام مالک نے فرمایا کہ اگر عورت کی عدت کے اندر پہلا خاوند آ گیا تو وہ اپنی بی بی کا حقدار ہو گا۔
حدیث نمبر: 1190B3
قَالَ مَالِكٌ : وَأَدْرَكْتُ النَّاسَ يُنْكِرُونَ الَّذِي قَالَ بَعْضُ النَّاسِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ : يُخَيَّرُ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ إِذَا جَاءَ فِي صَدَاقِهَا أَوْ فِي امْرَأَتِهِ
علامہ وحید الزماں
اور میں نے لوگوں کو پایا انکار کرتے ہوئے اس شخص کو جو یہ کہتا ہے کہ اگر وہ دوسرا نکاح کر لے، بعد اس کے پہلا خاوند آے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک پہلے خاوند کو اختیار ہے کہ اپنا مہر دوسرے خاوند سے وصول کر لے یا بی بی کو لے لے۔
حدیث نمبر: 1190B4
قَالَ مَالِكٌ : وَبَلَغَنِي، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : فِي الْمَرْأَةِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا، ثُمَّ يُرَاجِعُهَا، فَلَا يَبْلُغُهَا رَجْعَتُهُ، وَقَدْ بَلَغَهَا طَلَاقُهُ إِيَّاهَا، فَتَزَوَّجَتْ أَنَّهُ إِنْ دَخَلَ بِهَا زَوْجُهَا الْآخَرُ أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا، فَلَا سَبِيلَ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ الَّذِي كَانَ طَلَّقَهَا إِلَيْهَا. ¤
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پہنچا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس عورت کا خاوند کسی ملک میں چلا گیا ہو، وہاں سے طلاق کہلا بھیجے، اس کے بعد رجعت کر لے، مگر عورت کو رجعت کی خبر نہ ہو اور وہ دوسرا نکاح کر لے، اس کے بعد پہلا خاوند آئے تو اس کو کچھ اختیار نہ ہوگا، خواہ دوسرے خاوند نے صحبت کی ہو یا نہ کی ہو۔
حدیث نمبر: 1190B5
قَالَ مَالِكٌ : وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي هَذَا وَفِي الْمَفْقُودِ.
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھے یہ روایت اور مفقود کی روایت بہت پسند ہے۔