حدیث نمبر: 1165
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَأَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ، فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابهِ فِي الْغَلَسِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " فَقَالَتْ : أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ : " مَا شَأْنُكِ ؟ " قَالَتْ : لَا أَنَا وَلَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ لِزَوْجِهَا، فَلَمَّا جَاءَ زَوْجُهَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ، قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ "، فَقَالَتْ حَبِيبَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ : " خُذْ مِنْهَا "، فَأَخَذَ مِنْهَا، وَجَلَسَتْ فِي بَيْتِ أَهْلِهَا
علامہ وحید الزماں
سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں فجر کی نماز کو نکلے، سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا کو دروازے پر پایا، پوچھا: ”کون ہے؟“ بولی: میں حبیبیہ بنت سہل ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں کیا ہے؟“ بولی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نہیں یا ثابت بن قیس نہیں۔ جب سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”اس حبیبہ بنت سہل نے جو کچھ اللہ کو منظور تھا مجھ سے کہا۔“ سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ثابت بن قیس نے جو کچھ مجھے دیا ہے وہ میرے پاس موجود ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم اپنی چیز لے لو۔“ انہوں نے لے لی اور سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا اپنے میکے میں بیٹھی رہیں۔
حدیث نمبر: 1166
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ مَوْلَاةٍ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، أَنَّهَا " اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا بِكُلِّ شَيْءٍ لَهَا، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ " .
علامہ وحید الزماں
حضرت صفیہ بنت ابی عبید کی لونڈی نے اپنے خاوند سے سارے مال کے بدلے میں خلع کیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو برا نہ جانا۔
حدیث نمبر: 1166B1
قَالَ مَالِك فِي الْمُفْتَدِيَةِ الَّتِي تَفْتَدِي مِنْ زَوْجِهَا : أَنَّهُ إِذَا عُلِمَ أَنَّ زَوْجَهَا أَضَرَّ بِهَا، وَضَيَّقَ عَلَيْهَا، وَعُلِمَ أَنَّهُ ظَالِمٌ لَهَا، مَضَى الطَّلَاقُ وَرَدَّ عَلَيْهَا مَالَهَا، قَالَ : فَهَذَا الَّذِي كُنْتُ أَسْمَعُ، وَالَّذِي عَلَيْهِ أَمْرُ النَّاسِ عِنْدَنَا .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو عورت مال دے کر اپنا پیچھا چھڑائے، پھر معلوم ہو کہ خاوند نے سراسر ظلم کیا تھا اور عورت کا کچھ قصور نہ تھا، بلکہ خاوند نے زور ڈال کر زبردستی سے اس کا پیسہ مار لیا، تو عورت پر طلاق پڑ جائے گی، اور مال اس کا پھروا دیا جائے گا۔ میں نے یہی سنا اور میرے نزدیک یہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 1166B2
قَالَ مَالِكٌ : لَا بَأْسَ بِأَنْ تَفْتَدِيَ الْمَرْأَةُ مِنْ زَوْجِهَا بِأَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهَا
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر عورت جتنا خاوند نے اس کو دیا ہے اس سے زیادہ دے کر اپنا پیچھا چھڑائے تو کچھ قباحت نہیں۔