حدیث نمبر: 1097
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الشِّغَارِ " . وَالشِّغَارُ : أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع کیا ہے۔ شغار یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بیٹی کا نکاح ایک شخص سے کر دے اس شرط پر کہ دوسرا شخص اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کر دے، سوا اس کے کچھ مہر نہ ہو۔
حدیث نمبر: 1098
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُجَمِّعٍ ، ابْنَيْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِدَامٍ الْأَنْصَارِيَّةِ ، " أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ نِكَاحَهُ "
علامہ وحید الزماں
حضرت خنساء بنت خدام کا نکاح اس کے باپ نے کر دیا اور وہ ثیبہ تھیں، اور اس نکاح سے ناراض تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح فسخ کر دیا۔
حدیث نمبر: 1099
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أُتِيَ بِنِكَاحٍ لَمْ يَشْهَدْ عَلَيْهِ إِلَّا رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ، فَقَالَ : " هَذَا نِكَاحُ السِّرِّ، وَلَا أُجِيزُهُ وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهِ لَرَجَمْتُ "
علامہ وحید الزماں
حضرت ابوزبیر سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک نکاح کا ذکر آیا جس کا کوئی گواہ نہ تھا سوائے ایک مرد اور ایک عورت کے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ چوری چھپے کا نکاح میں جائز نہیں رکھتا، اگر میں پہلے اس کو بیان کر چکا ہوتا تو اب میں رجم کرتا۔
حدیث نمبر: 1100
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ : أَنَّ طُلَيْحَةَ الْأَسَدِيَّةَ كَانَتْ تَحْتَ رُشَيْدٍ الثَّقَفِيِّ، فَطَلَّقَهَا، فَنَكَحَتْ فِي عِدَّتِهَا، فَضَرَبَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَضَرَبَ زَوْجَهَا بِالْمِخْفَقَةِ ضَرَبَاتٍ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ فِي عِدَّتِهَا، فَإِنْ كَانَ زَوْجُهَا الَّذِي تَزَوَّجَهَا لَمْ يَدْخُلْ بِهَا، فُرِّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنْ زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، ثُمَّ كَانَ الْآخَرُ خَاطِبًا مِنَ الْخُطَّابِ، وَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنَ الْأَوَّلِ، ثُمَّ اعْتَدَّتْ مِنَ الْآخَرِ، ثُمَّ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا " .
علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن مسیّب اور سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ طلیحہ اسدیہ رشید ثقفی کے نکاح میں تھیں، انہوں نے طلاق دی تو طلیحہ نے عدت کے اندر دوسرے شخص سے نکاح کر لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دونوں کو کوڑے مارے اور نکاح چھڑوا دیا۔ پھر فرمایا کہ عورت عدت میں نکاح کرے کسی اور شخص سے تو اگر جماع نہ کیا ہو تو نکاح چھوڑا کر پہلے خاوند کی جس قدر عدت باقی ہو پوری کرے، اب جس سے جی چاہے نکاح کرے، مگر دوسرے خاوند سے زندگی بھر کبھی نکاح نہیں ہو سکتا۔ سعید بن مسیّب نے کہا کہ وہ عورت دوسرے خاوند سے اپنا مہر لے سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 1100B1
قَالَ مَالِكٌ : وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ : وَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْهَا . قَالَ مَالِكٌ : الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ، يُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، فَتَعْتَدُّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا إِنَّهَا لَا تَنْكِحُ إِنِ ارْتَابَتْ مِنْ حَيْضَتِهَا، حَتَّى تَسْتَبْرِئَ نَفْسَهَا مِنْ تِلْكَ الرِّيبَةِ إِذَا خَافَتِ الْحَمْلَ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو عورت آزاد ہو اس کا خاوند مر جائے اور چار مہینے دس دن عدت کرلے، پھر حمل کا گمان ہو تو نکاح نہ کرے جب تک یہ گمان رفع نہ ہو یا وضع حمل ہو۔