حدیث نمبر: 1068
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے نحر کیا حدیبیہ کے سال اونٹ سات آدمیوں کے طرف سے، اور گائے ذبح کی سات آدمیوں کی طرف سے۔
حدیث نمبر: 1069
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ صَيَّادٍ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، قَالَ : " كُنَّا نُضَحِّي بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ يَذْبَحُهَا الرَّجُلُ عَنْهُ، وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، ثُمَّ تَبَاهَى النَّاسُ بَعْدُ فَصَارَتْ مُبَاهَاةً " .
علامہ وحید الزماں
حضرت عمارہ بن صیاد سے روایت ہے کہ عطاء بن یسار نے خبر دی ان کو، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سن کر،کہتے تھے کہ ہم قربانی کرتے تھے ایک بکری اپنے اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے، بعد اس کے فخر سمجھ کر ہر ایک کی طرف سے ایک ایک بکری کرنا شروع کی۔
حدیث نمبر: 1069B1
قَالَ مَالِك : وَأَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الْبَدَنَةِ وَالْبَقَرَةِ وَالشَّاةِ الْوَاحِدَة، أَنَّ الرَّجُلَ يَنْحَرُ عَنْهُ، وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ الْبَدَنَةَ، وَيَذْبَحُ الْبَقَرَةَ وَالشَّاةَ الْوَاحِدَةَ هُوَ يَمْلِكُهَا، وَيَذْبَحُهَا عَنْهُمْ، وَيَشْرَكُهُمْ فِيهَا، فَأَمَّا أَنْ يَشْتَرِيَ النَّفَرُ الْبَدَنَةَ أَوِ الْبَقَرَةَ أَوِ الشَّاةَ، يَشْتَرِكُونَ فِيهَا فِي النُّسُكِ وَالضَّحَايَا، فَيُخْرِجُ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ حِصَّةً مِنْ ثَمَنِهَا وَيَكُونُ لَهُ حِصَّةٌ مِنْ لَحْمِهَا، فَإِنَّ ذَلِكَ يُكْرَهُ، وَإِنَّمَا سَمِعْنَا الْحَدِيثَ أَنَّهُ لَا يُشْتَرَكُ فِي النُّسُكِ، وَإِنَّمَا يَكُونُ عَنْ أَهْلِ الْبَيْتِ الْوَاحِدِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے جو بہتر سنا ہے اس باب میں وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک اونٹ یا گائے یا بکری جس کا وہ مالک ہو ذبح کرے اور سب آدمیوں کو ثواب میں شریک کرے، لیکن یہ صورت کہ ایک آدمی ایک اونٹ یا گائے یا بکری خرید کرے اور کئی آدمیوں کو قربانی میں شریک کرے، یعنی ہر ایک سے حصہ رسد قیمت لے اور اس کے موافق گوشت دے مکروہ ہے، ہم نے تو یہ سنا ہے کہ قربانی میں شرکت نہیں ہو سکتی، بلکہ ایک گھر کے لوگوں کی طرف سے ایک قربانی ہو سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 1070
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ إِلَّا بَدَنَةً وَاحِدَةً أَوْ بَقَرَةً وَاحِدَةً " . قَالَ مَالِك : لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ؟
علامہ وحید الزماں
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے اور اپنے اہلِ بیت کی طرف سے ایک اونٹ یا ایک گائے سے زیادہ نہیں قربانی کیا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے یاد نہیں ابن شہاب نے ایک اونٹ کہا یا ایک گائے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے یاد نہیں ابن شہاب نے ایک اونٹ کہا یا ایک گائے۔