حدیث نمبر: 1030
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ، كَانَ يَرْعَى لِقْحَةً لَهُ بِأُحُدٍ فَأَصَابَهَا الْمَوْتُ، فَذَكَّاهَا بِشِظَاظٍ فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : " لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ فَكُلُوهَا "
علامہ وحید الزماں
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص انصاری اپنی اونٹنی چرا رہا تھا احد میں، یکایک وہ مرنے لگی تو اس نے ایک دھاری دار لکڑی سے ذبح کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ اندیشہ نہیں، کھاؤ اس کو۔“
حدیث نمبر: 1031
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ سَعْدٍ ، أَوْ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لَهَا بِسَلْعٍ، فَأُصِيبَتْ شَاةٌ مِنْهَا، فَأَدْرَكَتْهَا، فَذَكَّتْهَا بِحَجَرٍ فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : " لَا بَأْسَ بِهَا فَكُلُوهَا "
علامہ وحید الزماں
حضرت معاذ بن سعد سے روایت ہے کہ ایک لونڈی کعب بن مالک کی بکریاں چرا رہی تھی سلع میں، (ایک پہاڑ ہے مدینہ کے پاس) ایک بکری اس سے مرنے لگی تو اس نے پتھر سے ذبح کر دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ حرج نہیں، کھاؤ اس کو۔“
حدیث نمبر: 1032
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَبَائِحِ نَصَارَى الْعَرَبِ، فَقَالَ : " لَا بَأْسَ بِهَا، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ سورة المائدة آية 51 "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ عرب کے نصاریٰ کا ذبیحہ درست ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا: درست ہے، بعد اس کے پڑھا اس آیت کو «﴿وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ﴾» ”تم میں سے جو بھی ان میں کسی سے دوستی کرے وه بےشک انہی میں سے ہے۔“
حدیث نمبر: 1033
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَقُولُ : " مَا فَرَى الْأَوْدَاجَ، فَكُلُوهُ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: جو چیز کاٹ دے رگوں کو، پس کھا لے اس کو۔
حدیث نمبر: 1034
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " مَا ذُبِحَ بِهِ إِذَا بَضَعَ، فَلَا بَأْسَ بِهِ، إِذَا اضْطُرِرْتَ إِلَيْهِ "
علامہ وحید الزماں
سعید بن مسیّب کہتے تھے: جس چیز سے ذبح کیا جائے، جب وہ کاٹ دے، کچھ حرج نہیں کھانے میں اس کے جب ضرورت ہو۔