کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: گھوڑوں کا اور گھڑ دوڑ کا بیان اور جہاد میں صرف کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1001
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” گھوڑوں کی پیشانی میں بہتری اور برکت بندھی ہوئی ہے قیامت تک۔“
حدیث نمبر: 1002
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ مِنْ الْحَفْيَاءِ، وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ مِمَّنْ سَابَقَ بِهَا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرط لگائی آگے بڑھنے کی ان گھوڑوں میں جو تیار کئے گئے تھے گھڑ دوڑ کے لئے، خفیا سے (ایک مقام ہے باہر مدینہ کے) ثنیۃ الوداع تک (پانچ میل ہے حفیا سے)، اور جو گھوڑے تیار نہیں کئے گئے تھے ان کی حد ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک (ایک میل ہے) مقرر کی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی گھڑ دوڑ میں شریک تھے۔
حدیث نمبر: 1003
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ : " لَيْسَ بِرِهَانِ الْخَيْلِ بَأْسٌ إِذَا دَخَلَ فِيهَا مُحَلِّلٌ، فَإِنْ سَبَقَ أَخَذَ السَّبْقَ، وَإِنْ سُبِقَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ شَيْءٌ "
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت سعید بن مسیّب کہتے تھے: گھڑ دوڑ کی شرط میں کچھ قباحت نہیں ہے، جب دو شخصوں کے بیچ میں ایک اور شخص آجائے، اگر وہ آگے بڑھ جائے تو شرط کا روپیہ لے لے، اور جب پیچھے رہے کچھ نہ دے۔
حدیث نمبر: 1004
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُئِيَ وَهُوَ يَمْسَحُ وَجْهَ فَرَسِهِ بِرِدَائِهِ فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ : " إِنِّي عُوتِبْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْخَيْلِ "
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں نے دیکھا کہ اپنے گھوڑے کا منہ چادر سے صاف کر رہے ہیں، لوگوں نے اس کا سبب پوچھا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات مجھ پر عتاب ہوا گھوڑے کی خبر نہ لینے پر۔“
حدیث نمبر: 1005
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ، أَتَاهَا لَيْلًا وَكَانَ إِذَا أَتَى قَوْمًا بِلَيْلٍ، لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ، فَخَرَجَتْ يَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُ، قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ، مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جب چلے خیبر کو، پہنچے وہاں رات کو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر رات کو پہنچتے تو جنگ شروع نہ کرتے یہاں تک کہ صبح ہو، تو خیبر کے یہودی اپنی کدالیں اور زنبیلیں لے کر نکلے، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے: قسم ہے اللہ کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور پورا لشکر ان کے ساتھ ہے، تو فرمایا آپ صلی الله علیہ وسلم نے: ”اللہ اکبر خراب ہوا خیبر۔ «إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ ﴿فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ﴾» ۔“
حدیث نمبر: 1006
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ، يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ، دُعِيَ مِنْ بَاب الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ، دُعِيَ مِنْ بَاب الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ، دُعِيَ مِنْ بَاب الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ، دُعِيَ مِنْ بَاب الرَّيَّانِ "، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَلَى مَنْ يُدْعَى مِنْ هَذِهِ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایک جوڑا (مثلاً دو اونٹ یا دو بکریاں یا دو روپے) صرف کرے اللہ کی راہ میں تو قیامت کے روز جنت کے دروازے پر پکارا جائے گا: اے بندے اللہ کے! یہ خیر ہے، تو جو شخص نمازی ہو گا وہ نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو شخص جہادی ہو گا وہ جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو شخص صدقہ دینے والا ہو گا وہ صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو شخص روزے بہت رکھے گا وہ باب الریان سے بلایا جائے گا۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم! جو شخص کسی ایک دروازے سے بلایا جائے اس کو کچھ حرج نہ ہو گا، مگر کوئی ایسا بھی ہوگا جو سب دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو گے۔“