کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: گھوڑے کے حصے کا بیان جہاد میں
حدیث نمبر: 979
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، كَانَ يَقُولُ : " لِلْفَرَسِ سَهْمَانِ وَلِلرَّجُلِ سَهْمٌ " . قَالَ مَالِك : وَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُ ذَلِكَ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: گھوڑے کے دو حصے ہیں، اور مرد کا ایک حصہ ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمیشہ ایسا ہی سنتا ہوا آیا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجهاد / حدیث: 979
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع ضعيف
تخریج حدیث «مقطوع ضعيف، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 21»
حدیث نمبر: 979B1
وَسُئِلَ مَالِك، عَنْ رَجُلٍ يَحْضُرُ بِأَفْرَاسٍ كَثِيرَةٍ، فَهَلْ يُقْسَمُ لَهَا كُلِّهَا ؟ فَقَالَ : لَمْ أَسْمَعْ بِذَلِكَ، وَلَا أَرَى أَنْ يُقْسَمَ إِلَّا لِفَرَسٍ وَاحِدٍ الَّذِي يُقَاتِلُ عَلَيْهِ
علامہ وحید الزماں
سوال ہوا امام مالک رحمہ اللہ سے کہ ایک شخص بہت سے گھوڑے لے کر آیا، تو کیا سب گھوڑوں کو حصہ ملے گا؟ جواب دیا کہ نہیں، صرف اس گھوڑے کو ملے گا جس پر سوار ہو کر لڑتا ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجهاد / حدیث: 979B1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 21ق»
حدیث نمبر: 979B2
. قَالَ مَالِك : لَا أَرَى الْبَرَاذِينَ، وَالْهُجُنَ إِلَّا مِنَ الْخَيْلِ، لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ : وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً سورة النحل آية 8، وَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ : وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ سورة الأنفال آية 60 فَأَنَا أَرَى الْبَرَاذِينَ وَالْهُجُنَ مِنَ الْخَيْلِ إِذَا أَجَازَهَا الْوَالِي . وَقَدْ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَسُئِلَ، عَنِ الْبَرَاذِينِ، هَلْ فِيهَا مِنْ صَدَقَةٍ ؟ فَقَالَ : " وَهَلْ فِي الْخَيْلِ مِنْ صَدَقَةٍ ؟ "
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: میرے نزدیک ترکی اور مجنس بھی گھوڑوں میں داخل ہیں، کیونکہ الله تعالیٰ نے فرمایا: ”پیدا کیا ہم نے گھوڑوں اور خچروں کو اور گدھوں کو تمہارے سوار ہونے کے لیے۔“ اور فرمایا الله تعالیٰ نے: ”تیار کرو واسطے کافروں کے جہاں تک کر سکو سامان لڑائی کا اور بندھے ہوئے گھوڑے، ڈراتے رہو ان سے اللہ کے دشمن کو اور اپنے دشمن کو۔“ تو میرے نزدیک ترکی اور مجنس گھوڑوں میں شمار کیے جائیں گے جب حاکم ان کو قبول کر لے۔ حضرت سعید بن مسیّب سے کسی نے پوچھا کہ ترکیوں میں زکوٰة ہے؟ بولے: کہیں گھوڑوں میں بھی زکوٰۃ ہوتی ہے؟
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجهاد / حدیث: 979B2
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 21ق»