حدیث نمبر: 973
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قِبَلَ نَجْدٍ، فَغَنِمُوا إِبِلًا كَثِيرَةً، فَكَانَ سُهْمَانُهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا جس میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے، نجد کی طرف تو غنیمت میں بہت اونٹ حاصل کیے، اور حصۂ رسد ہر ایک کا بارہ بارہ اونٹ یا گیارہ گیارہ اونٹ تھے، اور ایک ایک اونٹ زیادہ دیا گیا۔
حدیث نمبر: 974
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ : " كَانَ النَّاسُ فِي الْغَزْوِ إِذَا اقْتَسَمُوا غَنَائِمَهُمْ، يَعْدِلُونَ الْبَعِيرَ بِعَشْرِ شِيَاهٍ " .
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا حضرت سعید بن مسیّب سے، کہتے تھے: جہاد میں جب لوگ غنیمتوں کو بانٹتے تھے تو ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 974B1
قَالَ مَالِك، فِي الْأَجِيرِ فِي الْغَزْوِ : إِنَّهُ إِنْ كَانَ شَهِدَ الْقِتَالَ، وَكَانَ مَعَ النَّاسِ عِنْدَ الْقِتَالِ، وَكَانَ حُرًّا فَلَهُ سَهْمُهُ، وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَا سَهْمَ لَهُ ¤
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جہاد میں جو شخص اجرت پر کام کرتا ہو اگر وہ لڑائی میں مجاہدین کے ساتھ شریک رہے اور آزاد ہو تو غنیمت کے مال سے اس کو حصہ ملے گا، اور اگر ایسا نہ کرے تو اس کا حصہ نہیں ہے
حدیث نمبر: 974B2
قَالَ يَحْيَى : سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ : وَأَرَى أَنْ لَا يُقْسَمَ، إِلَّا لِمَنْ شَهِدَ الْقِتَالَ مِنَ الْأَحْرَارِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اور میری رائے میں حصہ اسی کو ملے گا جو لڑائی میں شریک ہو اور آزاد ہو۔