کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: بچوں اور عورتوں کو لڑائی میں مارنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 966
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ قَتَلُوا ابْنَ أَبِي الْحُقَيْقِ، عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ "، قَالَ : فَكَانَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، يَقُولُ : بَرَّحَتْ بِنَا امْرَأَةُ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ بِالصِّيَاحِ، فَأَرْفَعُ السَّيْفَ عَلَيْهَا، ثُمَّ أَذْكُرُ نَهْيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكُفُّ، وَلَوْلَا ذَلِكَ اسْتَرَحْنَا مِنْهَا
علامہ وحید الزماں
حضرت عبدالرحمٰن بن کعب سے روایت ہے کہ منع کیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جنہوں نے قتل کیا ابن ابی الحقیق کو، عورتوں اور بچوں کے قتل کرنے سے۔ حضرت ابن کعب نے کہا کہ ایک شخص ان میں سے کہتا تھا کہ ابن ابی الحقیق کی عورت نے چیخ کر ہمارا حال کھول دیا تھا تو تلوار اس پر اُٹھاتا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کو یاد کر کے رُک جاتا تھا، اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم اس سے بھی فراغت کرتے۔
حدیث نمبر: 967
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ امْرَأَةً مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، وَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لڑائیوں میں ایک عورت کو قتل کیے ہوئے پایا، تو برا کہا اس کو اور منع کیا عورتوں اور بچوں کے قتل سے۔
حدیث نمبر: 968
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ بَعَثَ جُيُوشًا إِلَى الشَّامِ، فَخَرَجَ يَمْشِي مَعَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَكَانَ أَمِيرَ رُبْعٍ مِنْ تِلْكَ الْأَرْبَاعِ، فَزَعَمُوا أَنَّ يَزِيدَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ : إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ، وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : " مَا أَنْتَ بِنَازِلٍ وَمَا أَنَا بِرَاكِبٍ، إِنِّي أَحْتَسِبُ خُطَايَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، ثُمَّ قَالَ لَهُ : " إِنَّكَ سَتَجِدُ قَوْمًا زَعَمُوا أَنَّهُمْ حَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ لِلَّهِ، فَذَرْهُمْ وَمَا زَعَمُوا أَنَّهُمْ حَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ لَهُ، وَسَتَجِدُ قَوْمًا، فَحَصُوا عَنْ أَوْسَاطِ رُءُوسِهِمْ مِنَ الشَّعَرِ، فَاضْرِبْ مَا فَحَصُوا عَنْهُ بِالسَّيْفِ، وَإِنِّي مُوصِيكَ بِعَشْرٍ : لَا تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً، وَلَا صَبِيًّا، وَلَا كَبِيرًا هَرِمًا، وَلَا تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا، وَلَا تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا، وَلَا تَعْقِرَنَّ شَاةً، وَلَا بَعِيرًا إِلَّا لِمَأْكَلَةٍ، وَلَا تَحْرِقَنَّ نَحْلًا، وَلَا تُغَرِّقَنَّهُ، وَلَا تَغْلُلْ، وَلَا تَجْبُنْ "
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لشکر بھیجا شام کو، تو چلے پیدل یزید بن ابی سفیان کے ساتھ، اور وہ حاکم تھے ایک چوتھائی لشکر کے۔ تو یزید نے کہا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے: آپ سوار ہو جائیں ورنہ میں نیچے اُترتا ہوں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہ تم نیچے اُترو اور نہ میں سوار ہوں گا، میں ان قدموں کو اللہ کی راہ میں ثواب سمجھتا ہوں۔ پھر کہا یزید سے کہ تم پاؤگے کچھ لوگ ایسے جو سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی جانو کو روک رکھا ہے اللہ کے واسطے۔ سو چھوڑ دے ان کو اپنے کام میں، اور کچھ لوگ ایسے پاؤگے جو بیچ میں سے سر منڈاتے ہیں، تو مار ان کے سر پر تلوار سے، اور میں تجھ کو دس باتوں کی وصیت کرتا ہوں: عورت کو مت مارنا اور نہ بچوں کو، اور نہ بڈھے پھونس کو، اور نہ کاٹنا پھل دار درخت کو، اور نہ اجاڑنا کسی بستی کو، اور نہ کونچیں کاٹنا کسی بکری اور اونٹ کی مگر کھانے کے واسطے، اور مت جلانا کھجور کے درخت کو اور مت ڈبانا اس کو، اور غنیمت کے مال میں چوری نہ کرنا، اور بزدلی نہ دکھانا۔
حدیث نمبر: 969
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ إِلَى عَامِلٍ مِنْ عُمَّالِهِ، أَنَّهُ بَلَغَنَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً، يَقُولُ لَهُمْ : " اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تُقَاتِلُونَ مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، لَا تَغُلُّوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تُمَثِّلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا " ، وَقُلْ ذَلِكَ لِجُيُوشِكَ، وَسَرَايَاكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھا اپنے ایک عامل کو عاملوں میں سے کہ پہنچا ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب فوج روانہ کرتے تھے تو کہتے تھے ان سے: ”جہاد کرو اللہ کا نام لے کر اللہ کی راہ میں، تم لڑتے ہو ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا اللہ کے ساتھ، نہ چوری کرو، نہ اقرار توڑو، نہ ناک کان کاٹو، نہ مارو بچوں اور عورتوں کو، اور کہہ دے یہ امر اپنی فوجوں اور لشکروں سے، اگر اللہ چاہے اور سلام ہے اوپر تیرے۔“